اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 218
حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات ع ۲۱۸ دیدار گر نہیں ہے تو گفتار ہی سہی ( در ثمین صفحه ۱۱۱) خطاب ۲۷ ؍ جولائی ۱۹۹۱ء خدا کو دیکھ نہیں سکتے تو کم سے کم گفتار تو ہو، کچھ گفت و شنید تو ہو، کچھ محبت اور پیار کے آثار تو ظاہر ہوں۔یہ وہ مضمون ہے جس کی آج دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے اور احمدی ماؤں کو احمدی باپوں سے بڑھ کر ضرورت ہے۔کیونکہ بچے ان کی کوکھ سے پیدا ہوتے ہیں آئندہ کی دنیا مائیں بناتی ہیں اور ماؤں کے دودھ میں آئندہ قوموں کے متعلق یہ تقدیر یکھی جاتی ہے کہ وہ زہریلی قوم بنے گی یا زندگی بخش قوم ثابت ہوگی۔پس آپ پر ایک عظیم ذمہ داری ہے وہ احمدی مائیں جو خدا ترس ہوں اور خدا رسیدہ ہوں ان کی اولا د کبھی ضائع نہیں ہوتی۔لیکن ایسے باپ میں نے دیکھے ہیں جو بہت خدا ترس اور بزرگ انسان تھے مگر ان کی اولادیں ضائع ہو گئیں۔کیونکہ ماؤں نے ان کا ساتھ نہ دیا۔اس معاملے میں میں نے ماؤں کو ہمیشہ جیتتے دیکھا ہے۔جو مائیں گہرے طور پر خدا سے محبت کرنے والی ہوں اور خدا سے ذاتی صلى الله تعلق قائم کر چکی ہوں ان کی اولادیں کبھی ضائع نہیں ہوتیں۔اسی لئے حضرت اقدس محمد رسول اللہ ہے نے یہ نہ فرمایا کہ جنت تمہارے باپوں کے قدموں کے نیچے ہے۔فرمایا جنت ماؤں کے قدموں کے نیچے ہے۔پس جنت آپ کے تحت اقدام رکھی گئی ہے آپ کے قدموں کے نیچے رکھی گئی ہے۔آپ نے فیصلہ کرنا ہے کہ آئندہ نسلوں کو آپ نے جنت عطا کرنی ہے یا جہنم میں پھینکنا ہے۔کیونکہ اگر جنت آپ کے پاؤں کے نیچے ہو اور پھر آپ کی نسلیں جہنمی بن جائیں تو اس کی دوہری ذمہ داری آپ پر ہوگی۔پس جب یہ کہا گیا کہ جنت ماؤں کے پاؤں کے نیچے ہے تو مراد یہ نہیں تھی کہ ہر ماں کے پاؤں کے نیچے جنت ہی جنت ہے۔مراد یہ ہے کہ اگر جنت مل سکتی ہے اگلی نسلوں کو تو ایسی ماؤں سے مل سکتی ہے جو خود جنت نشان ہو چکی ہوں۔خود جنت اُن کے آثار میں ظاہر ہو چکی ہو۔ایسی ماؤں کی اولاد لازما جنتی بنتی ہے۔پس میں نے مردوں کو اس مضمون پر مخاطب کرنے کی بجائے یہ فیصلہ کیا کہ آج خواتین کو اس مضمون میں مخاطب کروں کیونکہ میں تو روشنی تو حضرت اقدس محمد مصطفی ماہ سے پاتا ہوں۔اپنی عقل سے کلام نہیں کرتا جو قرآن سکھاتا ہے وہ کہتا ہوں جو حضرت محمد رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں وہ میں آپ کے سامنے اپنے رنگ میں پیش کرتا ہوں۔پس میں نے اس راز کو قرآن اور حدیث کے مطالعہ سے پایا کہ حقیقتا آئندہ قوموں کی تقدیر کا فیصلہ کرنا عورتوں کا کام ہے اور یہ فیصلہ انہیں آج