اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 217
حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۲۱۷ خطاب ۲۷ ؍ جولائی ۱۹۹۱ء بن دیکھے کس طرح کسی مہ رخ پر آئے دل کیونکر کوئی خیالی صنم سے لگائے دل تو ایک مذہبی جماعت کے لئے سب سے زیادہ اہم مشن یہ بن جاتا ہے کہ خیالی صنم کو حقیقی صنم میں تبدیل کیا جائے اور وہ صنم دنیا کوتب دکھائی دے گا اگر آپ کی ذات میں اس کے جلوے ظاہر ہوں اور خدا جس ذات میں جلوہ گر ہوا سے پھر اشاروں کے ذریعہ دکھانے کی ضرورت نہیں رہتی۔وہ خود اپنی صفات میں ایسا روشن ہے کہ جس ذات میں وہ چمکتا ہے اس ذات کے حوالے سے خدا دنیا کو دکھائی دینے لگ جاتا ہے اور اسی کا معنی ہے خدا نما ہونا۔مگر خدا نما بننے سے پہلے خود خدا کو اپنی صفات میں جلوہ گر کرنا ضروری ہے۔اپنے اندھیروں کو روشنی میں تبدیل کرنا ضروری ہے۔اور یہ ممکن نہیں ہے۔اگر آپ غیروں کی برائیوں کی تلاش میں رہیں اور یہ دعوے کریں کہ غیروں کی برائیاں ہم دور کریں گے اور اپنی برائیوں کی تلاش سے آنکھیں بند کر لیں اور اگر کوئی توجہ بھی دلائے تو آپ کو غصہ محسوس ہو۔پس یہ جو طرز عمل ہے یہ اندر کی دنیا کو تاریک سے تاریک تر بناتی چلی جاتی ہے اور بعض دفعہ اس کے باوجود آپ واقعہ باہر کی دنیا کو روشن دیکھنا چاہتے ہیں۔واقعہ ان معنوں میں کہ بڑے خلوص کے ساتھ ، آپ واقعہ بڑے گہرے جذبے کے ساتھ دنیا میں پاک تبدیلیاں ہوتی دیکھنا چاہتے ہیں جبکہ اپنے وجود کو تبدیل کرنے پر آمادہ نہیں۔چنانچہ ماؤں کو آپ نے دیکھا ہوگا بہت سی ایسی مائیں ہیں جو ہر قسم کی بدیوں میں مبتلا ہیں مگر اپنی اولاد کو اچھا دیکھنا چاہتی ہیں۔ان کے اندر روشنی دیکھنا چاہتی ہیں۔یہ وہ تضاد ہے جس سے وہ خود باخبر نہیں ہوتیں۔اگر ان کی اولاد کے لئے وہ صفات حسنہ اچھی ہیں تو ان کی ذات کے لئے کیوں اچھی نہیں اور جوان کی ذات کے لئے اچھی نہیں وہ ان کی اولاد کے لئے بھی اچھی نہیں ہے۔ان معنوں میں کہ اولاد جانتی ہے کہ ماں کا دل کہاں ہے اور اسے دھوکا نہیں دیا جا سکتا۔آپ کی تمنائیں جو رخ بھی اختیار کریں گی۔آپ کی زبان چاہے کسی اور رخ پر جاری رہے۔اولا د آپ کی تمناؤں کا رخ اختیار کرے گی۔آپ کی زبان کی کوئی پرواہ نہیں کرے گی۔پس حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کلام میں ہمیں گہرے انسانی فطرت کے فلسفوں سے آگاہ فرمایا ہے۔فرمایا کہ اے قوم تم خدا نما وجود بننا چاہتے ہو تو پہلے خود خدا کو دیکھو۔خیالی صنم سے تعلقات نہ جوڑو۔بلکہ ایسے صنم سے محبت کرو جو تمہیں دکھائی دینے لگے۔فرمایا