اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 208 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 208

حضرت خلیفہ مسیح الرابع' کے مستورات سے خطابات ۲۰۸ خطاب ۲۸ جولائی ۱۹۹۰ء بے قوفوں والے لباس سمجھے جاتے ہیں مشکل کام ہے لیکن جہاں تک میں نے جائزہ لیا ہے خدا کے فضل سے ان میں سے احمدی ہونے والی اکثر خواتین پردہ کی روح کی تو حفاظت کر رہی ہیں اور اپنے آپ کو سمیٹتی ہیں اور اپنے آپ کو بچا کر چلتی ہیں اور ان کا لاز مأرخ غیر اسلامی معا شرے سے اسلامی معاشرے کی طرف ہو چکا ہے آپ کو بھی لازماً ان سے زیادہ قدم ان کی طرف بڑھانے ہونگے یعنی اُن احمدی خواتین کو جو مشرقی معاشرے میں پلی ہیں ان کو اپنی تطہیر کرنی ہوگی۔مشرق کی گندی عادتیں توڑنی ہوگی اور ختم کرنی ہونگی اور اسلام کے پاکیزہ معاشرے کو از سر نو قائم کرنا ہوگا کیونکہ میرے نزدیک ابھی تک مشرقی دنیا کی احمدی خواتین خالصہ اسلامی معاشرے قائم کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکیں۔ان تمام بدرسموں کا قلع قمع کرنا ضروری ہے جو ہمیں بعض غیر اسلامی معاشروں سے ورثے میں ملی ہیں اور پاکیزہ اور صاف ستھرے ماحول قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ایک دوسرے کے حقوق ادا کرنے کی ضرورت ہے ایک دوسرے سے رشتوں میں منسلک ہو کر اور ان رشتوں تقویت دینے کی ضرورت ہے بجائے اس کے کہ گھٹیا اور کمینی باتوں سے ان تعلقات کو مجروح کیا جائے وہ عورتیں جن کو طعن و تشنیع کی لذت کی عادت پڑ جاتی ہے وہ عورتیں جو منفی کردار ادا کر کے ایک قسم کی بڑائی کا تصور قائم کرتی ہیں کہ ہم اونچی ہو گئیں ہم نے فلاں کو نیچا دکھا دیا وہ ایک گندی قسم کی لذت میں مبتلا ہیں اور یہ لذت ان کو سکون نصیب نہیں کر سکتی دن بدن ان کی تکلیفوں میں اور مصیبتوں میں اضافہ ہونا ضروری ہے اور اس کے ساتھ ساتھ وہ دوسروں کی تکلیفوں اور دوسروں کی مصیبتوں میں بھی اضافہ کر رہی ہوتی ہیں وہ نیکی کر کے بھی تو دیکھیں وہ خدمت کر کے بھی تو دیکھیں وہ پیار سے اپنی بہو کا دل جیتنے کی کوشش بھی تو کریں اسی طرح بہو دیں بھی یہ نہ سمجھیں کہ غیر کے گھر آئیں ہیں اور وہاں آکر بھی اپنے گھر کے تذکرے کرتی رہیں اور اپنے ماں باپ کو یاد کرتی رہیں۔اگر وہ قرآنی تعلیم کے مطابق جہاں دونوں کے رحمی رشتوں کا احترام کرنے کی تعلیم دی گئی ہے وہ یہ کوشش کریں کہ میں ان کی بیٹی بن کر رہوں اور اپنے ماں باپ کی طرح ان کا خیال رکھوں اور ان کی خدمت کروں تو دونوں طرف سے یہ حسن سلوک معاشرے کو جنت بنا سکتا ہے یہ چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں لیکن اتنے بڑے بڑے بد نتائج پیدا کرتی ہیں کہ اس کے نتیجہ میں سارا معاشرہ دکھوں میں مبتلا ہو جاتا ہے مصیبتوں میں، عذاب میں مبتلا ہو جاتا ہے گھر ٹوٹتے ہیں۔شادیاں ناکام ہوتی اور پھر بعض دفعہ قضاء کی طرف دوڑنا پڑتا ہے۔بعض دفعہ عدالتوں کے پھیرے لگانے پڑتے ہیں لیکن ہر دفعہ ہر جگہ ہر موقع پر خرابی کی جڑ اسلامی تعلیم سے روگردانی نظر آئے گی۔