اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 207
حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۲۰۷ خطاب ۲۸ جولائی ۱۹۹۰ء زندہ بچ کے آتے ہو کہ نہیں میں نے کہا ایسی کوئی بات نہیں ہے مجھے نہیں سمجھ آتی دن دیہاڑے کیا ہوگا۔تو انھوں نے مجھے بتایا کہ ایک ایسی مشرقی خاتون اپنے ہاتھ میں موٹا سونے کا کڑا پہنے جا رہی تھی تو چونکہ اتنا وقت نہیں تھا کہ چھینا جھپٹی کر کے وہ کڑا اتارا جا سکتا ایک شخص نے تیز چاقو سے اس کی کلائی کاٹ دی اور کڑ از مین پر گرا تو وہ اسے لے کر بھاگ گیا انھوں نے کہا یہ حالت ہے یہاں۔یہ حالت صرف وہاں نہیں ہر جگہ یہ حالت بنی چلی جارہی ہے۔اور سفا کی بڑھ رہی ہے وجہ یہ ہے کہ گھروں میں امن نہیں اگر کسی سوسائٹی میں گھروں میں محبت موجود ہو گھروں میں پیار ہو۔صرف میاں بیوی کے تعلقات یا مرد عورت کے تعلقات ہی لذت کا ذریعہ نہ ہوں بلکہ بہن بھائی کے تعلقات کو تقویت دی جائے ماں بیٹے کے تعلقات کو تقویت دی جائے باپ بیٹی کے تعلقات کو تقویت دی جائے اور رشتے داروں کے دیگر تعلقات کو جو قرآن کریم کی آیت میں سب شامل ہیں۔رحمی رشتوں میں میاں کے رحمی رشتے بھی آجاتے ہیں اور بیوی کے رحمی رشتے بھی آجاتے ہیں اور ایک وسیع خاندان بن جاتا ہے۔اس پہلو سے اگر گھروں کی تعمیر کی جائے تو گھر کے اندر ہی انسان کو ایسی لذت نصیب ہوتی ہے کہ بہت سے ایسے بچے جو ایسے خوش نصیب گھروں میں پلتے ہیں ان کو قطعاً کوئی شوق نہیں ہوتا کہ اسکول سے آکر یا کام سے آکر دوبارہ جلدی سے باہر نکلیں یا گلیوں کا رخ اختیار کریں یا دوسری سوسائیٹیوں میں جو گندی سوسائٹیاں آج کل انسان کو وقتی طور پر لذت دینے کے لئے بنائی جاتی ہیں۔ان میں جا کر اپنے وقت کو ضائع کرے۔یہی وہ معاشرہ ہے جو دراصل بعد میں شراب کو تقویت دیتا ہے جوئے کو تقویت دیتا ہے ہرقسم کی برائیاں اس معاشرے میں پنپتی ہیں اور نتیجے گھر ٹوٹ جاتے ہیں۔گھر آج مغرب میں بھی ٹوٹ رہے ہیں اور گھر آج مشرق میں بھی ٹوٹ رہے ہیں اور گھروں کو بنانے والا صرف ایک ہے اور ہمارے آقا و مولا محمد ﷺے ہیں آپ ہی کی تعلیم ہے جو مشرق کو بھی سدھار سکتی ہے اور مغرب کو بھی سدھار سکتی ہیں اور آج کی دنیا میں امن کی ضمانت ناممکن ہے جب تک گھروں کے سکون اور گھروں کے اطمینان اور گھروں کے اندرونی امن کی ضمانت نہ دی جائے۔پس گھروں کی تعمیر نو کی فکر کریں اور جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے آپ میں سے اکثر احمدی خواتین کیونکہ مشرقی معاشرے سے تعلق رکھتی ہیں اس لئے آپ اپنی کمزوریوں کو دور کر کے اپنے گھر کو ایک ماڈل بنانے کی کوشش کریں جہاں تک مغرب سے آنے والی احمدی خواتین کا تعلق ہے باوجوداس کے کہ یہاں بہت سی دقتیں ہیں اور ان کو اپنا رہن سہن بدلنا اور ایسے لباس پہننا جو ان کی سوسائٹی میں