اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 199
حضرت خلیفہ مسیح الرابع' کے مستورات سے خطابات ۱۹۹ خطاب ۲۸ جولائی ۱۹۹۰ء مسلمانوں نے بھی اس سے حصہ پایا ہے جبکہ ہندو قوم اب اس سے بے زاری کا اظہار کر رہی ہے اور ہندو قوم میں نی تحریکات چل رہی ہیں کہ ان نہایت خطرناک رجحانات کا قلع قمع کرنا چاہئے اور اگر قانون بنانے کی بھی ضرورت پیش آئے تو قانون بنا کر ان بدرسموں کا استیصال کرنا چاہئے لیکن ہمارے ہاں روز مرہ ایسے واقعات پیش آتے رہتے ہیں کہ کوئی بیٹے کی ماں اس خیال سے کہ بیٹا چونکہ برسر روزگار ہے اور تعلیم یا فتہ ہے بہو کی تلاش میں نکلتی ہے اور بہو کے اخلاق پر نظر رکھنے کی بجائے اس کے گھر پر نظر ڈالتی ہے۔یہ دیکھتی ہے کہ وہاں کس قسم کے صوفہ سیٹس ہیں دنیا کی زندگی کی سہولتیں موجود ہیں کہ نہیں کا رہے یا نہیں ہے اور کیا اگر کار ہے تو اپنی بیٹی کو وہ کار جہیز میں بھی دیں گے کہ نہیں دینگے اور دیگر جائیداد پر نظر ڈالتے ہیں۔یوں معلوم ہوتا ہے کہ کوئی ماں اپنی بہو کی تلاش پر نہیں نکی بلکہ کوئی انکم ٹیکس کا انسپکٹر کسی جائیداد کا جائزہ لینے کے لئے نکل کھڑا ہوا ہے۔ایسے خوفناک بدنتائج اس کے پیدا ہوتے ہیں کہ اگر ایسی شادیاں ہو بھی جائیں تو ان کی تعمیر میں ان کی تخریب کے سامان ڈال دیئے جاتے ہیں اور وہ ایسی شاخ پر بنا کرتی ہیں ایسی شادیاں جس شاخ نے قائم نہیں رہنا اس نے لازماً کاٹا جانا ہے زیوروں پر نگاہ ہوتی ہے یہ توقع کی جاتی ہے کہ کس حد تک کوئی بہوز یور مانگ کر یا پہن کر اپنا بنا کر گھر آئے گی۔مانگنے لفظ تو میں نے زائد کر دیا ہے جہاں تک ان کی توقع کا تعلق ہے وہ بجھتی ہیں کہ چاہے بیٹی والا اپنی ساری جائیداد بیچ دے اپنی بیٹی کو بہت سے زیور سے آراستہ کر کے ہمارے گھر بھیجے اور امر واقعہ یہ ہے کہ بعض ساسیں یعنی ان بیٹوں کی مائیں جو بطور بہو کسی گھر بھجوائی جاتی ہیں تقاضوں سے مجبور ہو کر بعض دفعه ما نگ کر زیور دیتی ہیں اور کوشش کرتی ہیں کہ دوسرے دن خفیہ طریق پر وہ زیور واپس منگوالیا جائے تا کہ جس کی امانت ہے اس کے سپر د کر دیا جائے چنانچہ بعد میں جو جھگڑے ہوتے ہیں ان میں یہ باتیں بھی سامنے آتی ہیں کیسی لغو بات ہے لیکن بڑی سنجیدگی کے ساتھ سامنے آتی ہے کہ ہم سے دھوکا کیا گیا بہو کو جو جھومر پہنایا گیا وہ مانگا ہوا تھا جو کانٹا پہنایا گیا ہو مانگا ہوا تھا اور یا یہ کہ مانتی نہیں کہ مانگا ہوا تھا کہتی کہتی ہیں دیا تھا اور واپس لے گئیں ایسا ظالمانہ معاشرہ ہے کہ اس کے نتیجہ میں محبت بڑھنے کی بجائے نفرتیں پیدا ہوتی ہیں اور وہ مائیں جو یہ ظالمانہ طریق اختیار کرتی ہیں وہ اپنے بیٹے کی خوشیوں میں کانٹے بودیتی ہیں اور ہمیشہ کے لئے معاشرے میں زہر گھول دیتی ہیں اور یہ باتیں پھر رکا نہیں کرتیں بڑھتی چلی جاتی ہیں شکووں پر شکوے اور نہایت کمینی با تیں۔پھر بعض مائیں ہیں وہ ان باتوں کی پرواہ شاید نہ کرتی ہوں لیکن بہت زیادہ بیٹی کی تعلیم پر زور دیتی ہیں اور اس کے پس پردہ ایک بدنیت چھپی ہوئی ہوتی ہے۔