اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 198
حضرت خلیفہ مسیح الرابع' کے مستورات سے خطابات ۱۹۸ خطاب ۲۸؍ جولائی ۱۹۹۰ء سارے مشرقی معاشرے کا ذکر کیا جائے میں جب مشرقی معاشرہ کی بات کروں گا تو میری مراد یہ ہے کہ وہ احمدی خواتین جو مشرقی ممالک میں پیدا ہوئیں اور وہیں پلیں ان کا معاشرہ ایک پہلو سے مشرقی معاشرہ ہے لیکن لازم نہیں کہ ہر پہلو سے وہ اسلامی معاشرہ بھی ہو اس لئے اگر انھوں نے دنیا کی معلمہ بننے کی کوشش کرنا ہے، اگر انہوں نے تمام بنی نوع انسان کی اس شدید ضرورت کو پورا کرنے میں کوئی اہم کردار ادا کرنا ہے کہ آج بنی نوع انسان کو گھر کی ضرورت ہے تو اچھا گھر بنا کر پھر اس گھر کے نمونے پیش کریں۔آپ نے دنیا میں دیکھا ہو گا آج کل جدید انجینئر نگ کے اثر کے نتیجے میں بڑی بڑی خوبصورت عمارتیں تعمیر ہوتی ہیں۔اور بعض عمارتیں ماڈل کے طور پر بنائی جاتی ہیں تا کہ وسیع پیمانے پر ویسے ہی اور گھر بنائیں جائیں۔وہ ماڈل کہاں ہے یہ وہ سوال ہے جو مجھے پریشان کر رہا ہے۔کونسا ایسا ماڈل ہے جس ماڈل کو ہم بنی نوع انسان کے سامنے اسلامی معاشرے کے طور پر پیش کر سکیں اگر احمدی خواتین نے وہ ماڈل پیش نہ کیا تو وقت کے ایک اہم تقاضے کو پورا کرنے سے محروم رہ جائیں گی اور تمام بنی نوع انسان کو امت واحدہ میں اکٹھا کرنے اور امت واحدہ کی کڑیوں سے منسلک کرنے میں ناکام رہیں گی اس لئے اس ضرورت کو جو میں آج آپ کے سامنے پیش کر رہا ہوں بہت اہمیت دیں یہ مضمون کیونکہ بہت وسیع ہے اس لئے میں حتی المقدور کوشش کروں گا کہ نکات کی صورت میں آپ کے سامنے باتیں رکھوں۔ہمارے معاشرے ہمارے سے مراد میر انہیں بلکہ میں تو اسلامی معاشرے کا علمبر دار ہوں اور اسی کی نمائندگی کرتا ہوں عادتا چونکہ میں مشرق سے تعلق رکھتا ہوں اس لئے ہمارے کا لفظ زبان پر جاری ہو جاتا ہے مشرقی معاشرے میں بعض بہت ہی گہری خرابیاں پائی جاتی ہیں جو ہمارے روز مرہ کی یعنی احمدیوں کی روز مرہ کی زندگیوں پر بھی اثر انداز ہیں۔رشتوں کا مثلاً معاملہ ہے رشتوں کے معاملات میں ابھی تک ہماری خواتین کی اس حد تک اصلاح نہیں ہو سکی کہ وہ رشتے کرتے وقت اچھی لڑکی یا اچھے لڑکے پر نظر رکھنے کی بجائے اچھی لڑکی کی دولت یا اچھے لڑکے کی دولت پر نظر رکھیں۔یہ جو عادت ہے یہ ہم نے بالعموم مشرقی معاشرے سے ورثے میں پائی ہے اور اس کی بنیادیں مشرکانہ معاشروں میں قائم اور نصب ہیں ہندو معاشرے میں یہ بہت زیادہ رسمیں پائی جاتی تھیں کہ رشتے کے وقت مالی منفعتیں بھی حاصل کی جائیں۔چنانچہ آج تک اس بدنصیبی کا ورثہ ہمارے ملک پاکستان میں بھی جاری وساری ہے اور ہندوستان کے بسنے والے