اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 152 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 152

حضرت خلیفہ آیح الرابع" کے مستورات سے خطاب ۱۵۲ خطاب ۱۳ مئی ۱۹۸۹ء مثال دی جائے تو آپ کہتی ہیں اف تو بہ تو بہ کراہت والی بات ہے لیکن اسی کراہت میں آپ روزانہ مبتلا ہوتی ہیں۔صبح کو ، دو پہر کو بھی اور شام کو بھی ،لیکن کچھ خدا کا خوف نہیں کھاتیں اور پھر اس کے نتیجے میں منافقت پیدا ہو جاتی ہے، بزدلی پیدا ہو جاتی ہے، معاشرہ تباہ ہورہا ہوتا ہے، نظام جماعت بالکل بیکار اور بے اثر ہو کر رہ جاتا ہے۔ایسے وقت میں آپس میں جب باتیں ہورہی ہوتی ہیں اگر وہ عورت اتفاق سے نکل آئے تو ایک دم آپ سب شی شی کی آوازیں دے کر خاموش ہو جاؤ خاموش ہو جاؤ اور بات کو بدلتی ہیں کہ کہیں اس کو پتہ نہ لگ جائے۔یہ بزدلی جو ہے اس سے کردار تباہ ہو جایا کرتے ہیں قوموں کے اور غیبت کا بزدلی سے گہرا تعلق ہے اگر آپ کو کسی عورت میں کسی بہن میں کسی بھائی میں نقص نظر آئے تو اس کا طریق کیا ہے، کس طرح ٹھیک کرنا ہے اگر آپ کے دل میں سچی ہمدردی ہے، محبت ہے اور برائی کے خلاف آپ جہاد کرنا چاہتی ہیں تو یہ طریق نہیں ہے جس کو قرآن کریم نے منع فرما دیا ہے۔اس کا طریق بڑا آسان یہ ہے کہ جس طرح آپ یہ دیکھیں کہ آپ کی بچی سے اگر کوئی غلطی ہو جائے تو آپ کیا کرتی ہیں ، اس پر پر دے ڈھانپتی ہیں، غیروں سے چھپاتی ہیں اور علیحدگی میں بعض دفعہ دروازے بند کر کے اس کے سامنے روتی ہیں کہ کیوں مجھے ذلیل و رسوا کر رہی ہو، خدا کے لئے ہوش کرو۔خاندان کا نام کاٹا جائے گا۔تمہارے باپ کو پتہ لگے گا تو کیا کہے گا، لوگ ہمارے متعلق کیا باتیں کریں گے، چھپ کر علیحدگی میں آپ اس سے باتیں کرتی ہیں کہ اور کوئی سن نہ لے۔یہی طریق ہے دراصل جو اسلامی طریق ہے، معاشرے کی اصلاح کے اس طریق کو اختیار کریں اور اگر کوئی اس طریق پر اصلاح نہیں کرتا تو پھر آپ کا حق نہیں فرض ہے کہ اس کو بتا کر کہ چونکہ تم ہماری نصیحت سے بالا ہو، ہماری حداثر سے آگے نکل گئی ہو اس لئے ہم تمہارے متعلق جماعت کے منتظمین کو بتانے پر مجبور ہیں لیکن تمہاری ہمدردی میں مجبوری ہے اس کو ہم نظر انداز نہیں کر سکتے۔اس طرح اگر آپ یہ طریق اختیار کریں تو یہ جائز ہے، پھر وہ جماعت کے متعلقہ افسران تک بات پہنچانا غیبت نہیں ہے، بلکہ اگر کسی جگہ یہ بات شروع ہو جائے تو دیکھتے دیکھتے برائیاں اس طرح کھڑی ہو جائیں جس طرح اچانک بریک لگا دی جاتی ہے ان کا نفوذان کا پھیلاؤ یہ ساراختم ہو جائے گا۔ان کے چلنے کے رستے بند ہو جائیں گے۔آج بہت ضرورت ہے اسلام کو آپ سب لوگ موحدین کی طرح اکٹھے ہو کر ایک ہاتھ پر