اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 151
حضرت خلیفہ سے الرابع" کے مستورات سے خطاب مسیح ۱۵۱ خطاب ۱۳ مئی ۱۹۸۹ء کیوں ایک دوسرے کے خلاف باتیں سنتی ہیں۔سننا بھی ایسا جرم ہے جیسا کرنا ہے کیونکہ اگر آپ سن کر حوصلہ افزائی کریں بہنوں کی تو پھر یہ بات آگے چل پڑتی ہے۔پھر اگر سنتی ہیں اور بعض دفعہ دوسروں تک پہنچاتی ہیں اور اس سے پھر فتنے کی آگ اور پھیل جاتی ہے۔آنحضرت ﷺ نے اس کی مثال دیتے ہوئے ایک موقع پر یغتب کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا کہ غیبت کیا ہوتی ہے؟ غیبت تو ایسی بات ہے جیسے کوئی کسی کی طرف تیر چلائے وہ تیر چلے تو سہی لیکن اس کے قدموں میں جاپڑے اس کو نہ لگے غائبانہ بات جو ہوئی لیکن جو شخص پھر اس بات کو وہاں تک پہنچاتا ہے اس کی مثال ایسی ہے کہ قدموں سے تیر ا ٹھائے اور اس کے سینے میں گھونپ دے کہ تمہارے لئے آیا تھا میں تمہارے تک پہنچا دیتی ہوں، گویا امانت ہے میں حق ادا کر دیتی ہوں۔تو فرمایا یہ ہے وہ فتنہ جود وطرح سے مکمل ہوتا ہے۔ایک غیبت کرنے والا چغلی کھاتا ہے اپنی بہن کی اپنے بھائی کی یا اپنے کسی عزیز کی یا غیر کی اور دوسرا اس کوسن کر اس تک پہنچاتا ہے شرارت کی نیت سے تا کہ ان کی آپس میں نفرتیں بڑھیں۔یہ دونوں شدید گناہ ہیں اور قرآن کریم اس کے خلاف اعلان جہاد کرتا ہے۔بڑی شدت کے ساتھ آپ کو ان چیزوں سے متنفر کرنے کی کوشش فرماتا ہے۔چنانچہ غیبت کی مثال دیتے ہوئے فرمایا: لَا يَغْتَب بَّعْضُكُمْ بَعْضًا أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ يَأْكُلَ b لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوْهُ وَاتَّقُوا اللهَ إِنَّ اللهَ تَوَّابُ (الحجرات :۱۳) رحِيم کہ کیا تم پسند کرتے ہو ایک دوسرے کے خلاف باتیں کرنے والوجبکہ وہ موجود نہیں ہوتا۔کیا تم یہ باتیں پسند کرتے ہو کہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھاؤ۔اب تمہیں پتا چلا کہ کراہت کیا ہوتی ہے۔فرمایا فکر هتموۀ دیکھا نا تم نے کیسی کراہت محسوس کی لیکن ایسے ہی ظلم ایک تم روحانی طور پر کر رہی ہو اور تمہیں اس کی کوئی کراہت محسوس نہیں ہے۔مثال دیکھیں کتنی کامل دی ہے، مردہ بھائی اپنا دفاع نہیں کر سکتا اس بے چارے کو پتہ نہیں ہوتا کہ میرے ساتھ کیا گذر رہی ہے اور مردے کا گوشت کھانا اس لئے یہاں چسپاں ہوتا ہے کہ آپ جب غیبت کرتی ہیں تو لذت محسوس کرتی ہیں، جس طرح کھانے میں لذت محسوس کرتی ہیں۔فرمایا ایسی آپ کی بہن یا بھائی یا کوئی عزیز یا غیر جس کو پتہ نہیں کہ آپ اس کے متعلق کیا باتیں کر رہی ہیں اور اس وقت آپ کو اس میں جو لذت محسوس ہوتی ہے بالکل ایسی ہی بات ہے جیسے مردہ بھائی کا گوشت آپ کھا رہی ہوں اور لذت محسوس کر رہی ہوں۔جب یہ