اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 11
11 خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۸۲ء حضرت خلیفہ مسیح الرابع کے مستورات سے خطابات چلا جایا کرتا ہے۔پس میں ان کو جواب نہیں دوں گا کیونکہ یہ فیصلہ قیامت کے دن ہوگا میرے اور ان کے درمیان اور اللہ تعالیٰ ہی ہے جو فیصلہ کرے گا کہ وہی میرے دل کا حال جانتا ہے۔جب سختیاں کی جاتی ہیں تو کس طرح کی جاتی ہیں اور کیوں کی جاتی ہیں میں آپ کو بتا تا ہوں حقیقت یہ ہے کہ مجھے نظر آرہا ہے کہ اگلی نسلیں انتہائی خطرناک دور میں داخل ہونے والی ہیں ہر طرف بے حیائی کا دور دورہ ہے ہر طرف ایسے حالات پیدا ہورہے ہیں کہ اگر آپ نے پردے کی خاص حفاظت نہ کی تو اتنے خطرناک حالات سے آپ کی اگلی نسلیں دو چار ہوں گی کہ آپ حسرت سے دیکھیں گی اور ان کو واپس نہیں بلا سکیں گی۔زندگی کے فیشن سے دور جارہے ہیں آپ۔وہ زندگی کا فیشن جس کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہام میں ذکر ہے۔اور جب آپ کو آپ کی خاطر روکا جاتا ہے تو جواب میں زخم لگا کر، چر کے لگا کر اپنے دکھ دوسروں میں منتقل کرنے کی کوشش کرتے ہو۔کیوں میں نے ایسا کیا؟ اس لئے کہ قرآن کریم فرماتا ہے۔اِنَّ الَّذِينَ يُحِبُّونَ أَنْ تَشِيعَ الْفَاحِشَةُ فِي الَّذِينَ آمَنُوا لَهُمْ عَذَابٌ اَلِيمُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَاللهُ يَعْلَمُ وَأَنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ ) (النور: ٢٠) یقینا وہ لوگ جو چاہتے ہیں کہ مومنوں میں بے حیائی کو پھیلائیں ان کے لئے اس دنیا میں بھی درد ناک عذاب مقدر ہے صرف آخرت کا عذاب نہیں ہے اس دنیا میں بھی دردناک عذاب مقدر ہے۔وفی الآخرۃ اور آخرت میں بھی ہے۔وَاللهُ يَعْلَمُ وَأَنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے کہ ان حالات کے کیا بد نتائج پیدا ہونے والے ہیں۔پھر فرماتا ہے: فَإِنَّهُ يَأْمُرُ بِالْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ ۖ وَلَوْلَا فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهُ مَازَكَى مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ أَبَدًا وَلَكِنَّ اللهَ يُزَكِّي ( النور : ۲۲) مَنْ يَّشَاءُ وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيْمٌ کہ دیکھو یہ سارے پردے کی کوششیں، احکامات ، انسانی قدروں کی حفاظت ،اسلامی