اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 10 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 10

خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۸۲ء حضرت خلیفہ مسیح الرائع کے مستورات سے خطابات واپس مکہ میں اپنے گھروں میں آبادہورہے تھے مال غنیمت میں سے بہت کچھ دیا اور وہ انصار جو وہاں سے ساتھ آئے تھے وہ تقریباً خالی ہاتھ رہے۔اس وقت ایک بدقسمت نے یہ سوال کیا یہ اعتراض اٹھایا کہ یہ عجیب بے منصف رسول ہے جو عدل پر قائم ہے اور لوگوں کو قائم کرتا ہے اور اپنا یہ حال ہے کہ جنگ کے اموال غنیمت اپنے رشتہ داروں اور اقرباء کو دے دیئے ہیں اور خون ہماری تلواروں سے ٹپک رہا ہے۔آنحضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم بہت رنجیدہ خاطر ہوئے لیکن آپ اس قسم کی باتوں کے عادی تھے۔آپ نے انصار اور مہاجرین کو اکٹھا کیا اور فرمایا کہ: دیکھو مجھ تک یہ بات پہنچی ہے۔ایک جاہل انصاری تھا جس سے یہ بات ہوئی جس نے یہ بات کہی تھی جب یہ بات سنی تو انصار تو دھاڑیں مار مار کر رونے لگے۔یا رسول اللہ ! ہمارا قصور نہیں۔ہم میں سے ایک جاہل نے یہ بات کر دی ہے۔آپ نے فرمایا نہیں نہیں سنو تو سہی۔اس نے یہ دیکھا اور اس کے دل میں یہ خیال پیدا ہوا میرا فرض ہے کہ میں تمہیں بتاؤں کہ میری نیت کیا تھی۔آپ نے فرمایا کہ میرا یہ فیصلہ تھا کہ اب میں اس وطن میں نہیں ٹھہروں گا جہاں سے نکالا گیا تھا۔میں ان انصار بھائیوں میں واپس چلا جاؤں گا جنہوں نے ہجرت کے وقت میری مدد کی تھی اس لئے میں نے سوچا کہ مال غنیمت اور دنیا کی چیزیں تو ان لوگوں کو دے جاؤں اور خدا کا رسول تمہارے ساتھ چل پڑے۔پس تم یہ بھی تو کہہ سکتے تھے کہ یہ تو مال مویشی ہانک کر لوٹ رہے ہیں اور ہم محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ساتھ لے کر جا رہے ہیں جن کی خاطر کائنات کو پیدا کیا گیا۔ایک ایسا بھی ردعمل ہوتا ہے۔ایک بچی کے والد نے مجھے خط لکھا اور انہوں نے لکھا باون (۵۲) سال حضرت مصلح موعود کے ساتھ میں نے زندگی کا وقت گزارا، بڑے ہی محسن تھے، بڑا ہی احسان کا سلوک فرمایا کرتے تھے، پھر سترہ سال میں نے حضرت خلیفہ اسیح الثالث" کے ساتھ زندگی کا وقت گزارا بڑے ہی محسن تھے اور بہت ہی احسان اور شفقت کا سلوک فرمایا کرتے تھے اور اس کے بعد یہ خط ختم ہو گیا۔مجھے اللہ تعالیٰ نے بصیرت عطا فرمائی ہے کہ میں خاموش زبان کو بھی پڑھ سکتا ہوں۔اب میں آپ کو بتا تا ہوں کہ وہ خط جاری تھا اور میں اسے پڑھتا رہا جہاں یہ خط ختم ہوا اس کے بعد یہ مضمون تھا کہ مجھے آج یہ نحوست کا دن بھی دیکھنا پڑا کہ جب تمہاری خلافت کی بیعت کرنی پڑی جو ظالم ہو اور انصاف کے خلاف فیصلے کرتے ہو۔پہلے مجھے خیال آیا کہ ان کو جواب دوں پھر میرے دل نے یہ فیصلہ کیا کہ خلیفہ وقت کے خلاف جب اس قسم کے اعتراضات پیدا ہوں تو اس میں کسی بحث کا سوال نہیں رہا کرتا یہ معاملہ آسمان کی عدالت میں