اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 145 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 145

حضرت خلیفہ انسخ الرابع کے مستورات سے خطاب ۱۴۵ خطاب ۱۳ مئی ۱۹۸۹ء ہمارے متعلق کوئی تحقیقاتی کمیشن بیٹھے جو صلح کی کوشش کرائے اور اگر صلح نہیں ہوسکتی تو پھر ایک فریق جو نا جائز ظلم کر رہا ہے اس کے خلاف تعزیری کا روائی ہو یا بالعموم اپنے دکھ کا اظہار تفصیل سے بتائے کہ میں تکلیف میں ہوں میرے لئے دعا کریں۔اس میں بغیر کسی پر حملہ کئے اپنے درد کا اظہار کیا جا سکتا ہے۔قرآن کریم اس چیز کو پسند نہیں کرتا جیسا کہ آگے ان آیات میں اس مضمون کو کھولا جائے گا۔اول تو طعن و تشنیع سے پر ہیز ، دوسرے ایک دوسرے کا نام رکھنے سے تو بہ اور اگر آپ نے توبہ نہ کی تو فرمايا ومن لم يتب فاولئِكَ هم الظالمون اگر آپ نے ان باتوں سے تو بہ نہ کی تو خدا کے نزدیک آپ ظالم ہیں اور جو ظالم ہو اس پر خدارحم نہیں کیا کرتا وہی لعلکم ترحمون والے مضمون کو خدا نے مزید کھول دیا ہے کہ اگر آپ نے توبہ کر لی تو ٹھیک ہے ورنہ خدا تعالیٰ آپ پر رحم نہیں کرے گا۔آگے فرمایا: يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيْرًا مِنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْم وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا يَغْتَب بَّعْضُكُم بَعْضًا اَ يُحِبُّ اَحَدُكُمْ أَنْ يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوهُ * وَاتَّقُوا اللهَ إِنَّ اللهَ تَوَّابٌ رَّحِيمُ (الحجرات : ۱۳) اے لوگو! جو ایمان لائے ہو ظن کی عادت اختیار نہ کرو۔ہمیشہ اندازے نہ لگایا کرو کیونکہ اگر تم نے ظن کی عادت اختیار کر لی تو یا درکھو بعض ظن بڑے سخت گناہ بن جاتے ہیں اور یہ بیماری بھی ایسی ہے جو مردوں میں بھی پائی جاتی ہے اور عورتوں میں بھی پائی جاتی ہے لیکن اگر کچھ فرق ہے تو میرے نزدیک عورتوں میں بدظنی کا رجحان زیادہ پایا جاتا ہے اس لئے آپ کو میں سمجھا رہا ہوں کہ خدا نے آپ کو جو فضیلتیں عطا فرمائیں ہیں ان کو اختیار کرنے کے لئے آپ ان کمزوریوں سے بچیں۔یہ معاشرے کو تباہ کر دیتی ہیں، اور بدظنی ایسی عادت ہے جو بڑھتے بڑھتے پھر اوپر چلتی ہے پہلے آپس میں ایک دوسرے سے بدظنی شروع کرتے ہیں پھر اور سلسلہ بڑھ جاتا ہے پھر نظام جماعت سے بدظنی پھرا میر سے بدظنی شروع ہو جاتی ہے پھر بعض دفعہ قاضی سے اپنی عدلیہ سے بدظنی شروع ہو جاتی ہے۔اور اگر جھگڑے خلیفہ وقت تک پہنچیں تو جن کو بدظنی کرنے کی عادت ہے وہ خلیفہ وقت پر بھی بدظنی کرنے اور زبانیں دراز کرنے سے کبھی باز نہیں آتے۔ایسے لوگ مجھے معلوم ہیں بعض دفعہ جب تک ان کے آپس میں جھگڑے نہیں ہوئے اس مضمون کے خط لکھا کرتے تھے کہ ہم تو قربان ہم فدا۔ہمارا مال ہماری دولتیں