اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 144 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 144

حضرت خلیفہ مسح الرابع" کے مستورات سے خطاب ۱۴۴ خطاب ۱۳ مئی ۱۹۸۹ء فرمایا کہ یہ بہت بری حرکت ہے کہ تم ایسی کمینی با تیں شروع کر دو کہ کسی پر طعنہ زنی کے طور پر اور خاص طور پر اس کے نام، اس کی شکلوں کے مطابق، اس کے رنگوں کے مطابق ،اس کے حلیے کے مطابق رکھنے شروع کر دو اور سمجھو کہ میں نے کمال کر دیا یہ ایسا گناہ ہے جس کو خدا شدید نفرت کی نگاہ سے دیکھتا ہے، اور جب خدا کسی کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتا ہے، اس کی دونوں زندگیاں تباہ ہو جاتی ہیں۔نہ اس دنیا کا رہتا ہے ، نہ اُس دنیا کا رہتا ہے۔یہ بیماری بھی بدقسمتی سے ہمارے پنجاب میں بڑی نمایاں طور پر پائی جاتی ہے اور اکثر یہاں جو خواتین تشریف لائی ہیں، جو خاندان ہیں میں جانتا ہوں چونکہ پنجاب میں زیادہ مظالم ہوئے ہیں اس لئے پنجاب ہی سے آئی ہیں اور ان بیماریوں کو یہاں ساتھ لے آئی ہیں۔کیونکہ مجھے علم ہے کہ یہی شکایتیں، یہی تکلیفیں یہاں بھی موجود ہیں اور آپ میں سے جو ناراض ہو یا جس سے ناراض ہو اس کے خلاف مجھے خط لکھ دیتا ہے اور اب مجھے پتہ نہیں کس حد تک وہ خط سچا ہے لیکن بعض دفعہ دوسرے شخص کو پتہ بھی نہیں ہوتا کہ میرے خلاف کیا شکایت ہوئی ہے۔بعض دفعہ ایک بہو اپنی ساس کے خلاف لکھ رہی ہے بعض دفعہ ایک ساس ہے جو بہو سے تنگ آئی ہوئی ہے۔یہ جو یک طرفہ شکایتیں ہیں یہ بھی اسلام کی تعلیم کے خلاف ہو جاتی ہیں کیونکہ دو احمدی بچیاں ہیں، ایک سمجھ لیں بچی ہے اور ایک خاتون ہیں بڑی عمر کی۔دونوں کی آپس میں کوئی لڑائی ہے تو مجھے تو پتہ نہیں کیا لڑائی ہوئی میں نہیں جانتا کہ کس نے کس پر ظلم کیا بعض دفعہ یہ بھی ہوتا ہے کہ دونوں اپنے آپ کو مظلوم سمجھ رہی ہوتی ہیں اور اس کے نتیجے میں ان کی آپس کی دشمنیاں بڑھتی چلی جاتی ہیں اور گھر برباد ہو جاتے ہیں۔مجھے اگر لکھا جائے تو یہ لکھنا چاہئے کہ کوئی کمیشن مقرر کریں جو تحقیق کر کے رپورٹ کرے یا اصلاح کی کوشش کرے اور پھر آپ کو بتلائے کہ کس کی غلطی تھی اور کس حد تک اصلاح ہوگئی ہے، یہ تو جائز بات ہے لیکن یکطرفہ کان بھرتے چلے جانا اور بعض دفعہ آٹھ آٹھ دس دس بعض دفعہ چودہ چودہ صفحے کی چٹھیاں مجھے ملتی ہیں۔ایک عورت نے دوسرے خاندان والوں کے خلاف بڑی تکلیف دہ باتیں لکھی ہوتی ہیں اگر وہ بچی ہیں تو بڑی قابل رحم حالت ہے ان کی۔اس میں کوئی شک نہیں لیکن اگر کا لفظ کس طرح حل ہو جب تک میں دوسرے فریق کی بات نہ سن لوں اور میرے پاس اتنا وقت ہے، نہیں کہ ساری دنیا کی جماعت کے دوسرے کام بھی کروں اور پھر ہر جگہ جہاں کسی عورت کی کسی دوسرے سے لڑائی ہو اس کے سارے قصے سنے بیٹھ جاؤں۔یہ تو ہو نہیں سکتا اس کے لئے نظام جماعت مقرر ہے۔دو میں سے ایک طریق آپ اختیار کر سکتی ہیں آپ کا جائز حق ہے۔یا تو مطالبہ کریں کہ