اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 137 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 137

حضرت خلیفہ مسیح الرابع کے مستورات سے خطاب خطاب ۱۳ مئی ۱۹۸۹ء بظاہر تو مردوں سے ہے لیکن قرآن کریم کا یہ اسلوب ہے اور عربی زبان میں یہ طریق جاری ہے کہ عموماً خطاب مردوں سے ہوتا ہے لیکن مرد مراد نہیں ہوتے بلکہ سب شامل ہوتے ہیں یعنی بنی نوع انسان یا مسلمان شامل ہوتے ہیں اور خطاب مردوں سے ہے۔چنانچہ اگر یہ مضمون اس طرح نہ سمجھا جائے تو پھر عورت کا ذکر تو بہت کم ملے گا لیکن بہت ساری دوسری جگہوں پر خدا تعالیٰ نے یہ غلط فہمی دور فرما دی اور کھول کھول کر بتا دیا کہ ان آیات اور شریعت کا تعلق مردوں اور عورتوں سے برابر کا ہے اور دونوں ہی مخاطب ہیں۔اس پہلو سے اگر چہ کہا یہ ہے کہ بھائیوں بھائیوں کے درمیان تم مواخات پیدا کر وہ محبت کا اور صلح کا ماحول پیدا کر ولیکن اس میں عورتیں بھی مخاطب میں ہیں اور دو طرح سے مخاطب ہیں اول تو جیسا کہ میں نے بیان کیا عربی زبان میں مرد کا صیغہ قومی خطاب عورت پر بھی اطلاق پاتا ہے اور مرد عورت دونوں پیش نظر ہوتے ہیں دوسرا یہ کہ جہاں تک میں نے جائزہ لیا ہے بہت سارے ایسے علاقے ہیں جہاں مردوں کی لڑائی میں عورتوں کا بہت دخل ہوا کرتا ہے اس لئے اصلحوا بين اخو یکم میں عورت پر دو ہری ذمہ داری ہے۔بہت سے ایسے مرد ہیں جو گھر میں عورت کی باتیں سنتے ہیں اور پھر باہر جا کر دوسرے مردوں سے لڑتے ہیں اور ان کے گھر کی عورتیں پھر ان کو انگیخت کرتی ہیں، دوسرے گھر کے خلاف اور یہ میرا تجربہ بہت پرانا ہے، مجھے موقع ملا ہے پاکستان میں بہت کثرت سے دورے کرنے کا۔اس وقت مشرقی پاکستان وہاں بھی جاتا تھا بہت دیہاتیوں میں کثرت سے پھر ہوں اور جہاں جاتا تھا وہاں اختلافات طے کرنے کی کوشش کرتا تھا تو جب باتیں سامنے آتی تھیں تو یہ میں نے محسوس کیا کہ بہت ساری جگہ لڑائیوں کا فتنہ گھر سے شروع ہوتا تھا اور رقابت اور شریکے کی بناء پر ایک عورت اپنے خاوند کو کہتی کہ فلاں نے میری بے عزتی کر دی، فلاں میری چچازاد بہن نے یہ کہا فلاں کی بیوی نے مجھے اس طرح دیکھا فلاں نے مجھے طعنہ دیا اور وہ پھر مشتعل ہو کے اس کے خاوند سے باہر جا کر لڑتا تھا۔ایک دفعہ ڈھا کہ میں تو معاملہ اتنا خطرناک ہو گیا تھا کہ لگتا تھا کہ ساری جماعت پھٹ جائے گی۔اس وقت مجھے بڑا گھبرا کر ایک منتظم نے کہا کہ باہر بڑا فساد ہونے لگا ہے بہت سخت اشتعال پیدا ہو گیا ہے۔میں باہر گیا ان کو جا کر تسلی دی ، آرام سے پہلے بٹھایا ، پھر میں نے ان کے نمائندے بلوائے ان سے پوچھا کیا بات ہے آخر پر وہی چھوٹی سی بات نکلی کہ کسی عورت نے کسی اور عورت کے متعلق اپنے خاوند سے بات کر دی اور اس نے پھر اپنے خاوند سے غصے میں آکر کہا کہ یہ اس نے میری شکایت کی ہے، پھر خاوند کے حمایتی دونوں طرف سے اکٹھے ہونے شروع ہوئے ، پھر عورتوں کے حمایتی اکھٹے ہونے شروع