نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 64
نکتہ (۱) عورتوں مردوں میں ایک قدرتی فرق ہے۔عورت جبر سے بھی اپناکام … دے سکتی ہے۔بخلاف مرد کے۔اس واسطے علی العموم عدالتوں میں زنا بالجبر کے مقدمات میں عورتیں ہی مدعی ہیں نہ جوان مرد۔(۲) عورت کے بہت مر دہوں تو اس کی صحت قطعاً نہ رہے گی۔کنچنیوں کے حالات سے یہ تجربہ ہو سکتاہے۔(۳) اس کے نطفہ بے تحقیق کی پرورش مشکل ہو گی۔کون ذمہ وار ہو گا۔(۴) ایک وقت میں اگر کئی طالب اس کے پیش ہو گئے تو مزاحمت اور جنگ ہو گا بشرطیکہ قوم باہمت ہو۔(۵) قدرتی طور پر ایک عورت ایک برس میں ایک مرد کے نطفہ سے زیادہ چند مردوں کے نطفوں کے بچہ پیٹ میں نہیں رکھ سکتی اور ایک مرد چند عورتوں میں اپنے بچہ دہ نطفہ رکھ سکتا ہے۔یہ قدرتی اجازت تعداد ازواج کی معلوم ہوتی ہے۔(۶) قرار حمل میں مشکلات ہو ں گے۔وضع حمل کی ضرورتیں پیش آ جائیں گی اور حمل کے بعد مرد کو دیانند جماع کی اجازت نہیں دیتے اگر کثرت ازواج نہ ہو تو قوی مردوں کی جماعت میں ان کا فتویٰ کون سنے گا گو مجھے تو اب بھی یقین ہے کہ بیاہے آریہ لوگ جن کی ایک بی بی ہے اور تندرست ہیں اس دیانندی فتویٰ پر عمل درآمد کم کرتے ہوں گے۔ہاں البتہ حیوانات میں خود نر حیوان اور ان کی مادہ حمل کے بعد ضرور متنفر ہو جاتے ہیں مگر انسانوں میں یہ نیچر … قابل غور ہے۔فقرہ ہشتم۔استغفراللہ ربی!استغفراللہ ربی!!استغفراللہ ربی!!!لاحول ولاقوۃ الا باللہ !لاحول ولاقوۃ الا باللہ !!لاحول ولاقوۃ الا باللہ !!!