نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 63 of 358

نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 63

ولادت نہ ہو۔(۳)معاشرت کے نقائص رکھتا ہو۔(۴)نان ونفقہ نہ دے سکے اسی واسطے قرآن کریم میں ہے اور ان احکام کی عام تعمیل پر فرمایا َّ ۔اسی طرح مرد طلاق دے سکتاہے۔اگر عورت تقویٰ کے متعلق نفسانی اغراض پوری نہ کر سکے۔قابل ولادت نہ ہو۔معاشرت کے نقائص رکھتی ہو۔نکاح کے منافع شخصیہ اور نوعیہ کی خلاف ورزی کرتی ہو۔بدچلنی کے باعث فسادومزاحمت کا باعث ہو۔پھر کبھی طلاق فوری ہو سکتی ہے جیسے لعان۔واقعی ہم بستری سے پہلے وعدہ میں اور کبھی تدریجی ہوتی ہے جیسے فہمایش۔شروط طلاق اور منصفوں کے فیصلہ کے بعد۔تعداد ازواج پرمنع، تعدد ازواج کے نقصانات:۔نمبر۱۔عورتوں کے قتل کے واقعات ہوں گے جب پہلی بی بی ناپسند ہو اور کوئی دوسری پسند آجاوے تو ان بلاد و اقوام میں جن میں دوسری بی بی کرنا ممنوع ہے اور باایں قوم بہادر ہے پہلی کو ماردیں گے۔نمبر۲۔خود کشی ہو گی جیسے اسٹریا کے ولی عہد کو یہ مصیبت پیش آئی۔جب پسندیدہ بی بی بیاہنے کی اجازت قانون اور قوم نے نہ دی۔نمبر۳۔یا بے غیرتی ہو گی جیسے … بعض انڈین کے لئے پیش افتاد امر ہے کہ مر د دیکھتا ہے اور بول نہیں سکتا۔نمبر۴۔زناکاری کی کثرت ہو گی۔جب کہ پہلی پسند نہیں اور دوسری کا مجاز نہیں اور قویٰ بہت مضبوط رکھتا ہے۔نمبر۵۔یا آخر نیوگ کا فتویٰ ہو گا جیسا آریہ میں ہوا۔نمبر۶۔قطع نسل بعض حالتوں میں ضرور پیش آئے گا۔