نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 52 of 358

نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 52

کا سرا ہو گیا ہے۔متی باب ۲۱آیت ۴۲،۴۴۔غرض یہ ایک بشارت ہے جو کئی کتب مقدسہ میں مندرج ہے۔اسی بشارت اور اسی پیشین گوئی کے اظہارو تصدیق کے لئے مکہ معظمہ کی بڑی عبادت گاہ میں بطور تصویری زبان کے حجر اسود کونے پر رکھا گیا تھا۔محمدیوں سے پہلے سالہا سال سے یہ پتھر ابراہیمی عبادت گاہ کے کونے پر منصوب تھا اور عرب کے لوگ اسے چومتے اور اس سے ہاتھ ملاتے۔گویا قدیم زمانے میں نبی عرب سے پہلے یہ فقرہ تصویری طور پر مکہ معظمہ کی مقدس مسجد پر لکھا تھا کہ اس شہر میں وہ کونے کا پتھر جسے یہود اور عیسائی رد کریں گے ظاہر ہو گا جس کا ذکر مقدسہ کتب میں موجود ہے اور روحانی طور پر یوں کہا جائے گا کہ نبوت اور رسالت کی عظیم الشان اور مستحکم عمارت جو انبیاء اور رسولوں کے وجودباجود سے تیار ہوئی ہے۔اس میں رسالت مآب کی گرامی ذات کونے کی آخری اینٹ ہے جن سے وہ عمارت پوری ہوئی۔ان کی بیعت رحمان کی بیعت اور ان کی اطاعت رحمان کی اطاعت ہے۔کیونکہ جو کچھ وہ بولے الٰہی بلانے سے بولے۔حضرت رسالت مآب نے بھی یہی تفسیر فرمائی ہے دیکھو مشکوٰۃ وغیرہ۔مثلی ومثل الانبیاء کمثل قصراحسن بنیانہ وترک منہ موضع اللبنۃ الی ان قال فکنت انا سددت موضع اللبنۃ وفی روایۃ فانا تلک اللبنۃ۔(ترجمہ): میری اور دوسرے نبیوں کی مثال اس محل کی ہے کہ وہ بہت خوبصورت بنایا گیا اور ایک اینٹ کی جگہ اس میں خالی رکھی گئی۔میں وہی اینٹ ہوں۔کیسی صاف اور واضح صداقت ہے۔اللہ تعالیٰ کا شکر ہے جہاں عدو نکتہ چینی کے لئے انگلی رکھتا ہے وہیں سے معارف کا خزانہ نکل آتاہے۔اگر مخالف خردہ گیری نہ کرتے تو یہ صداقتیں دنیا پر کیونکر ظاہر ہوتیں۔فللّٰہ الحمد فی الاولٰی والاٰخرۃ۔فقرہ ششم۔آریہ کے احکام جنگ اور اسلام کا مقابلہ: