نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 51
ہے۔مجھے امید ہے کہ میر ے اس دعویٰ میں کسی کو انکار نہ ہو گا۔اگر کسی کو ہو تو سری رام چندر جی اور شیو جی کے تصویری قصص ہندوؤںکے پاس خصوصاً ہند کے قدیم مصوروں کے پاس موجود ہیں دیکھ لے۔رومی سکندر جس کو دانیال نے ذوالقرن ایک سینگ کا بکرا خواب میں دیکھا ہے۔دیکھو دانیال باب ۸ اور دارا ایرانی بادشاہ کی تصویری زبان میں (گفتگو)عام نظموں میں موجود ہے پڑھ لو۔اس تصویری زبان کی کتابیں اور اخبارات ہند میں بکثرت موجود ہیں۔تصویری زبان ان بلاد میں جہاں تعلیم کا رواج کم ہوتا ہے یا بالکل نہیں ہوتا زیادہ تر استعمال کی جاتی ہے بلکہ اکثر تصویری زبان بہ نسبت تحریری کے زیادہ قوی ہوا کرتی ہے۔اسی واسطے یادگاروں کو عقلاء اور حکماء اکثر تصویری تحریروں میں ادا کرتے ہیں۔عیسائی جن کے بھروسہ پر آپ اسلام پر معترض بن بیٹھے ہیں اور اس زمانہ میں جس قوم کے اطوار نیو فیشن لوگوںکے نزدیک آسمانی کتب سے بڑھ کر مستحکم اور قابل اتباع نظر آتے ہیں۔وہ قوم تصویری زبان کی کیسی قائل ہیں کہ ان کے اخبار جنہیں گریفک کہتے ہیں تصویری زبان میں شائع ہوتے ہیں۔یہود میںایک پولا ہلانے کی رسم تھی۔جس کا ذکر احبار ۲۳باب ۱۸میںہے۔عیسائیوں نے اس کو مسیح کا جی اٹھنا یقین کیا۔قرنتی باب۱۵،۲۰۔باب ۲۰یوشع بن نون نے یردن سے گزرتے وقت بارہ پتھر اٹھائے۔یوشع باب۶۔وہ بقول عیسائیوں کے بارہ حواریوں کی پیشگوئی تھی۔یہود اور عیسائی غیر قوموں کو اور بعض خواص کو پتھر کہتے تھے یہ ان کا محاورہ تھا۔بطرس کو پتھر اسی واسطے کہاکہ کلیسا کے لئے وہ فونڈیشن سٹون ہوا۔ان باتوں پر غور کرو۔اب اس تمہید کے بعد واضح رہے کہ کتب مقدسہ میں ایک پیشگوئی بہ نسبت حضرت خاتم الانبیاء، اصفی الاصفیاء بہت زور سے مندرج تھی۔دیکھو لوقا۲۰باب۱۶،۱۷۔وہ پتھر جسے راج گیروں نے رد کیا وہی کونے کا سرا ہوا۔اور دیکھو زبور۱۸۔۲۲وہ پتھر جسے معماروں نے رد کیا کونے