نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 40
اب ہم اس بحث مبدء کو ختم کرتے ہیں۔مگر صرف یجر وید کے پُرش سکت کے تین وید منتر وں کی طرف اشارہ ضروری سمجھتے ہیں تاکہ ناظرین کو انصاف اور غور کا موقع ملے کہ اسلامی صفات الٰہیہ اور آریہ سماج کے ویدک صفات میں کیا تفرقہ ہے۔اول یجر وید ۳۱۔ادہیا کا پہلا منتر ہے۔سَہَسَر۔شیرشا پُرشا۔سَہسَر۔اکشا۔سَہُسَر۔پات۔سبہوی گوانک۔سَرْوْتَا۔سِپر وتوّا۔تت شٹ۔دش۔انگلم۔ترجمہ: ہزاروں سروںوالا۔پرش۔ہزاروں آنکھوںوالا۔ہزاروںپاؤں والا۔زمین کے ساتھ سیا ہوا۔ہر جگہ ،علیحدہ۔قائم۔دس۔انگلی پرے۔ہم نے یہ لفظی ترجمہ کیاہے اور اس کے قرائن بھی ہیں۔سہسر سی ہزار پنجابی ہے۔ہزاروں اردو ہے۔سر سا۔سر۔اکشا آنکھ۔پات پاؤں وغیرہ وغیرہ۔یجر وید ادہیا ۳۱کے تیسرے منترمیں ہے۔سب زمین اور تمام خلقت خالق کی ایک جزو میںہیں اور اس خالق کے تین حصہ فنا سے محفوظ، عظمت و نور میں ہیں۔میں کہتا ہوں یہ جگت تو محدود ہے۔پس نعوذ باللہ خدا کا ایک حصہ تو محدود ہوگیا۔جب ۴/۱ محدود ہے تو ۴/۳ بھی محدود ہو گیا۔اور موجودات کے باہر تین کی تقسیم تثلیث کی مثل ہے۔پس آریہ سماج اب کم سے کم مسیحی مذہب کو ضرور مان لے۔اور چوتھا منتر بھی قریب اسی کے ہے۔ہم آریہ سماج سے بمنّت چاہتے ہیں کہ وہ ان تین منتروں کے لفظی ترجمہ کو شائع کریں اور لفظی ترجمہ کے بعد جو معنے چاہیں لکھیں۔تشبیہ بتائیں ، استعارہ کہیں ان کو اختیار ہے۔النکار اپا دہیان بنائیں مختار ہیں۔نمبر ۲قیامت پر اعتراض قیامت کے ثبوت میں یہ ایک نرالہ مضمون ہے اور اس طرز کو میں نے کہیں اور جگہ دیکھا نہیں۔مگر میرے ایک نہایت پیارے دوست جو بسبب مدرس ہونے کے ریاضی دان تھے۔انہوں نے مجھ سے محبت اور حسن ظن کے باعث ایک بار فرمایا کہ قرآن کریم میں قیامت کے ثبوت صرف امکان قیامت کو ثابت کرتے ہیں مثلاً کھیتوں سے تشبیہ۔سونے اور جاگنے کی تشبیہ سے قیامت اور حشر اجساد