نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 35 of 358

نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 35

ا لفظ ہے کیونکہ اگر وہ ہر ایک چیز کا خالق نہ ہو تو کچھ چیزیں اس کی خلق سے باہر بھی ہوں گی اور جو اشیاء خلق سے باہر ہوںگی بہرحال وہ چیزیں ضرور کسی نہ کسی پہلو میں اللہ تعالیٰ کی شریک ہی ہوں گی جیسے آریہ کہتے ہیں کہ تمام ارواح حتیٰ کہ کیڑے مکوڑے بلکہ درختوں کی روحیں بھی خدا کی بنائی ہوئی نہیں۔مادہ عالم اللہ تعالیٰ کا بنایا ہوا نہیں۔زمانہ اکاش بھی خدا کا بنایا ہوا نہیں وغیرہ تو یہ چیزیں بھی غیر مخلوق، دائمی اپنی ہستی میں خدا کی شریک ہوئیں۔پھر یہ چیزیں نہ اپنی ذات میں خدا کی محتاج نہ اپنے خواص میں نہ اپنے عادات میں اور نہ اپنے افعال میں خدا کی دست نگر۔باایں ہمہ خدا کو بے وجہ ان پرحکمران مانتے ہیں بلکہ جیسے منتر آئندہ میں ہے ان اشیاء کو خدا کی مانند مانا ہے۔دیکھو صفحہ۳۱ (۲)دوسری دلیل انّی ہے جس کو سنسکرت میں انومان کی قسم میںشیش وت کہتے ہیں۔کیا معنے؟ مخلوق سے خالق شناسی حاصل کرنا اور وہ اس طرح ہے کہ قرآن کریم میں ہے: (الفرقان :۳) اللہ تعالیٰ لاشریک ہے سب کا خالق ہے۔دلیل یہ ہے کہ ہر ایک چیز ایک اندازہ پر ہے اور محدودہے اور یہ بات اگرچہ آریہ سماج اسے مانتے ہیں مشاہدات اور تجارب سے بھی ظاہر ہے اور ہر ایک محدود کے لئے حدبندی کرنے والا ضروری ہے اور مادہ و جیو کی حدبندی کرنے والا پھر خدا کے سوا کون ہے ؟پس وہ ہر ایک چیز کا خالق اللہ ہی ہے۔(۳) دلیل خلف۔۔(الطور :۳۶تا۳۸) کیا یہ لوگ خود بخود ہو گئے۔عدم سے وجود بلا مرجح کیونکر ہوا کیا یہ اپنے آپ خالق ہیں ؟یہ بات ہمیں وجدان اور اپنی طاقتوں کے لحاظ سے غلط معلوم ہوتی ہے۔اوّل تو اس لئے کہ جوں جوں ہم پیچھے جاویں کمزوری بڑھتی نظرآتی ہے۔دوم ہم تجارب کے بعد بھی انسان کیا،کیڑا بنانے کے قابل نہیں۔علاوہ بریں( اس میں تقدم اپنی