نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 34
خالق ہے۔حقیقی طور پر عالم کا بنانا، اس کے اجزاء کا بنانا اور اس کے مادہ کا بنانا آریہ لوگ اللہ تعالیٰ کو انو پیم اور سرب شکتی مان کہتے ہیں۔پہلے لفظ کے معنی لیس کمثلہ کے ہیں اور دوسرے لفظ کے معنے ہیں القادر کے کیا معنے ؟اپنے کاموں میں اللہ کسی کا محتاج نہیں اسی واسطے جب سوال ہوا کہ وید اس نے کس طرح بنائے اور کس زبان سے بولے،کس قلم دوات سے لکھے تو یہی جواب دیا گیا کہ وہ سرب شکتی مان ان آلات کا محتاج نہیں مگر اس منتر کے باعث مادہ عالم کو ازلی مان گئے جس کا ذکر آگے آتاہے۔ہاں یہ بات یاد رہے کہ ان سوالات مذکورہ کے جوابات صرف بطور دعویٰ ہی قرآن کریم نے بیان نہیں فرمائے بلکہ ہر ایک دعویٰ کی دلیل بھی دی ہے۔مثلاً کس نے بنایا جو پہلا سوال ہے۔اس سوال کے جواب پر سینکڑوں دلائل دئیے ہیں۔بطور نمونہ یہ ہیں۔(۱) لمّی دلیل جس کو سنسکرت میں انومان کی قسم میںپوردت کہتے ہیں۔فرمایا ہے: (الرعد :۱۷) اللہ ہر ایک چیزکا خالق ہے اور اس دعویٰ کی یہ دلیل دی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات میں بے ہمتا،اپنے صفات میں یکتا اور افعال میں وہ لیس کمثلہ ہے اوریہ تمام معانی الواحد کے ہیں۔جب یہ لفظ اللہ تعالیٰ کی نسبت بولا جاوے اور وہ سب پر حکمران و متصرف ہے اور سب کو اپنے ماتحت رکھتا ہے اور یہ معانی القہّار کے ہیںجب حضرت حق سبحانہ وتعالیٰ پر اس کا اطلاق ہو۔آریہ سماج بھی اللہ تعالیٰ کو الواحد، القہّار ان معانی میںمانتے ہیں گو نتیجہ میں غلطی کرتے ہیں کیونکہ یہاں اللہ تعالیٰ ہی کی ذات پاک انوپیم، ست،چت،آنند ہے۔اگرچہ عام ہنود بت پرستی کے باعث ایک کا کلمہ زبان پر کم لاتے ہیں کیونکہ عام طور پر یہ لوگ جب وزن کرتے ہیں۔اوّل اور ایک کے بدلہ پنجاب میں توبرکت برکت کہتے ہیں اور دوسری بار دوآ دوآ۔غالباً تمام ہندوستان میں یہی طرز ہوگا۔اور القہّار کے بدلہ اس کے ہم معنے لفظ برہم۔پرمیشر اَحْکَمُ الْحَاکِمِیْن۔رَبُّ الْعَالَمِیْن کا نام لیتے ہیں۔اب اَللّٰہُ خَالِقُ کُلَّ شَیْئٌ کا دعویٰ جس مسلم بات پر مبنی ہے وہ اَلْوَاحِدُ الْقَھَّار ک