نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 323
اور فرمایا۔(الانفال:۳۷) تیرے مخالف مال و دولت خرچ کریں گے۔پھر ان پر افسوس ہو گا اور مغلوب ہوںگے۔(۱ب ہمارے مخالف بھی اموال خرچ کرتے ہیں دیکھیں کہ کس قدر وہ خرچ مفید ہوتاہے) پھر باربار بتایا کہ منکروں پر عذاب عظیم ہو گا۔پھر دیکھ تمام عرب و عرا ق عرب و عراق عجم، شام و روم ومصر وبربر کے مخالفوں پر کیسے کیسے عذاب آئے۔عرب ریگستان کے باشندے خشن پوش کھجور پر زندگی بسر کرتے تھے ان کے لئے کہا گیا۔ (البقرۃ :۲۶) پھر دیکھا اب تک ہم لوگ قریش اس جنت کے مالک ہیں۔وہ بصیرت تو تم کو نہیں کہ اتباع نبی کریم کو حقیقی جنتوں کے بھی وارث ہوئے دیکھے مگر ظاہری جنت کی وراثت سے تم بے خبر نہیں ہو سکتے۔جناب الٰہی نے آپ کے مخالف منافقوں کے لئے خبر دی اور فرمایا۔(الانفال :۷۴) انھوں نے بڑے بڑے ارادے کئے مگر کامیاب نہ ہوئے۔پھر دیکھا کوئی کامیاب ہوا؟ نہیں اور ہر گز نہیں۔اگر قرآن کریم اللہ القادر اور العالم کی طرف سے نہ ہوتا تو اس کی کوئی تعلیم تو سنن الٰہیہ ثابتہ کے خلاف ہوتی۔کیونکہ تم مانتے ہو کہ ان پڑھوں میں ان پڑھ رسول تھے۔عرب میں کوئی کتا ب ،مدرسہ ،یونیورسٹی قرآن کے لئے نہ تھی۔وہاںاگر یہ کتا ب تصنیف ہوئی تھی تو تیرہ سو برس کی تحقیقات یورپ نے کوئی امر قرآن کریم کا خلاف سائنس ثابت کر دیا ہوتامگر میں چیلنج کرتا ہوں کہ ایسا نہیں ہوسکا۔پھر قرآن کریم کی تعلیم مشترکہ تعلیم انبیاء ورسل کے خلاف نہیں۔اٹکل پچو باتیں کرنے والے کی باتیں اکثرغلط نکلتی ہیں۔پس اگر قرآن کریم اللہ کی طرف سے نہ ہوتا تو اس کی اکثر باتیں غلط نکلتیں۔