نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 314 of 358

نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 314

والجواب الثانی۔اگر حکم خداوندی میں تغییر وتبدیل خلاف عقل ہے تو ارادہ خداوندی میں بھی تغییر وتبدیل خلا ف عقل ہی ہو گا۔حکم کے تبدیل میں اگر یہ خرابی ہے کہ خدا کی طرف غلط فہمی کا الزام آئے گا تو ارادہ کی تغییر وتبدیل میں بھی یہی خرابی ہے کیونکہ ارادہ بھی مثل حکم کے فہم پر موقوف ہے یعنی جس طرح حکم جب دیتے ہیں جب پہلے اپنے دل میں کچھ سمجھ لیتے ہیں ایسے سمجھ والے ارادہ بھی جب ہی کرتے ہیں جب اس مراد میں کوئی فائدہ خیال کر لیتے ہیں۔مگر یہ ہے تو پھر پیدا کرنے کے بعد معدوم کر دینا اور جلانے کے بعد مارنا اور عطائے صحت کے بعد مریض کر دینا اور راحت کے بعد تکلیف میں ڈال دینا علٰی ہٰذالقیاس اس کا الٹا بھی خدا سے ممکن نہ ہوسکے کیونکہ یہ سب بارادہ خدا ہوتے ہیں۔سو ایک ارادہ کے بعد دوسرا ارادہ مخالف اگر خدا کرے تو یوں کہو پہلے بے سوچے سمجھے خدا نے ارادہ کر لیا تھا(انتصارالاسلام)قاسم العلوم۔۱۲۔اور سنو۔قرآن مجید اور فرقان حمید میں اختلاف نہیں۔اوّل اس لئے کہ اختلاف کے یہ معنی بھی ہیں کہ سنیوں کا قرآن اور ہو شیعوں کا اور۔روافض کا اور ہو خوارج کا اور۔ظاہری لوگوں کا اور قرآن ہو اور اہل تصوف کا اور۔مقلدوں کا اور۔غیر مقلدوں کا اور جیسے سناتن اور تمہارا باہم اختلاف ہے کہ وہ برہمنوں اور اپنشدوں کو بھی ویدہی یقین کرتے ہیں اور آریہ سماج صرف منتر بھاگ اور سنگہتا کو۔قرآن کریم کی محافظت کا ٹھیکیدار خود اللہ رب العالمین ہے فرماتا ہے۔ ( الحجر :۱۰) اور فرماتا ہے۔  (القیامۃ :۱۸) اور فرمایا۔  (حٰمٓ السجدۃ :۴۳) جیسے میں نے بارہا بیان کیا ہے کہ ایک سلسلہ جسمانی امور کا ہوتا ہے اور دوسرا سلسلہ روحانی امور کا۔پس اس کے ظاہری سلسلہ کو دیکھو۔پانچ وقت کے فرائض اور ا ٓٹھ وقت کے نوافل ہیں۔قرآن مجید پڑھاجاتا ہے کم سے کم چالیس رکعتوں میں اور زیادہ سے زیادہ ساٹھ بلکہ