نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 16 of 358

نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 16

ادنیٰ تعلیم کا جواب یہ دیاہے کہ صاحب شرع اسلام تک کو رغبت دلاتا ہے کہ وہ دائمی اور ابدی ترقیات کیلئے ہمیشہ دعا مانگتا رہے اور ترقی علم چاہتا رہے۔جیسے فرمایا: (طٰہٰ :۱۱۵) کہہ اے میرے رب ! میرے علم میں ترقی بخش اور فرمایا: (المجادلۃ : ۱۲) اللہ تم میںسے مومنوں اور عالموں کے درجے بلندکرے گا۔اور فرمایاِ: (الزمر : ۱۰) کہہ کیا وہ جو علم رکھتے ہیں اور جو نہیں رکھتے برابر ہیں۔ہرگز نہیں۔اور فرمایا:(الفاطر : ۲۹) اللہ کا خوف اور خشیت انہی لوگوں کو میسر آتاہے جو عالم ہیں۔اور فرمایا: (الرعد : ۴۴)کہہ مجھ میں اور تم میں اللہ گواہ ہے۔پھر وہ شخص جسے کتاب کا علم دیا گیا ہے اورفرمایا:(العنکبوت : ۴۴) اور ہم یہ مثالیں لوگوں کے لئے بیان کرتے ہیں اور انہیں عالم ہی سمجھتے ہیں۔اب تعلیم اسلام کا نمونہ سنو!آدمی جب پیدا ہوتا ہے تو حسب ارشاد الٰہی الٰہی علوم سے عاری ہوتا ہے جیسا فرمایا:(النحل : ۷۹) اور اللہ نے تمہیں نکالا تمہاری ماؤں کے اندر سے اور تمہیں کسی چیز کا علم نہ تھا۔جب عاقل و بالغ ہو جاتا ہے۔اس وقت اسلام عین تقاضائے فطرت کے موافق مختصر مگر جامع اور کامل آداب سکھاتا ہے جیسے فرماتا ہے: (الاعراف : ۳۲) کھاؤ اور پیو اور بے جا کھانے پینے سے بچو۔اللہ نہیں پسند کرتا خطاکاروں کو۔