نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 285 of 358

نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 285

(۱۶)پتھر پر چڑھے ہوئے پھول صندل اور چاول وغیرہ سب پانی اور مٹی کے ساتھ ملنے سے موری یا حوض میں آکر سڑ جاتے ہیں اس سے اتنی بدبو آکاش میں پھیلتی ہے کہ جتنی انسان کے براز کی اور ہزاروں جاندار اسی میں پڑتے اسی میں مرتے سڑتے ہیں۔ایسے ایسے کئی بت پرستی کرنے سے عیب واقع ہوتے ہیں اس لیے پتھر وغیرہ کی بت پرستی شریف لوگوں کے لیے قطعی طور پر ممنوع ہے۔اور جنہوں نے پتھر کی بت پرستش کی ہے کرتے ہیں اورکریں گے وے مذکورہ بالاعیبوں سے نہ بچے نہ بچتے ہیں اور نہ بچیں گے۔اب تم ہی بتائو کہ جس بت پرستی میں اس قدر عیوب ہوں جو خود تمہارے گرو نے تسلیم کیے ہیں او ر اسی لعنتی شے کو قرآن کریم میں شر ک کہاگیاہے۔کیا اس شرک کا گناہ سب گناہوں سے بڑا نہیں اور جب بڑاہے تو قابل عفو کیونکر ہوا ؟اور مسئلہ توبہ اور شفاعت پر جو انسانی فطرت کے موافق سچے امو ر ہیں ہم لکھ چکے ہے۔سوال نمبر۹۳۔مسلمانوں اور کافروں کے درمیان خدا پردہ ڈالتا ہے۔الجواب۔دیکھو جواب سوال نمبر۲۰ سوال نمبر۹۴۔مشرک اور کافر ناپا ک ہیںان سے دوستی مت لگاؤ۔الجواب: (۱) مشرک کی بحث تو ہم سوال نمبر ۹۲ میں ہم کر چکے ہیں۔(۲)کافر کی بحث اب سن لو ! منّو ادھیا نمبر ۲سلوک نمبر ۱۱۔جو شخص وید کے احکام کوبذریعہ علم منطق سمجھ کر وید شاستر کی توہین کرتا ہے وہ ناستک یعنی کافر ہے۔اس کو سادھ لوگ اپنی منڈلی سے باہر کر دیں۔کافر کا لفظ بعینہٖ مطبوع نول کشور میںہے۔پھر ستیارتھ پرکاش سملاس نمبر۱۰ صفحہ ۳۵۲ فقرہ نمبر ۶ میں ہے کبھی ناستک شہوت پرست،دغا باز،دروغگو،خود غرض ،فریبی ، حیلاباز وغیرہ برے آدمیوںکی صحبت نہ کرے۔آپت (اہل کمال)یعنی جو سچ بولنے والے دھرماتما اوردوسروںکی بہبودی جن کو عزیز ہے ہمیشہ ان کی صحبت کرنے کانام سریشٹ آچار(پاکیزہ چلن)ہے۔