نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 279
ہے۔اب بتاؤ اس پر اعتراض کیا ہوا؟ سوال نمبر۸۸۔دوزخ کو آدمیوں۔جنوں۔پتھروں سے بھرے گا معلوم نہیں کہ جنّ کون ہیں پتھروں نے کیا گنا ہ کیا ہے؟ کسی نے سچ کہا ہے کہ خداہر ایک چیز کا سامان اس کے ساتھ رکھتاہے۔الجواب:۔کیا شریر آدمی تمہارے ہاں نرک میں نہیں جائیں گے۔جنّ بھی ایک اگنی سے پیدا ہوئی ہوئی مخلوق ہے۔کیا اگنی کی مخلوق اگ میں نہیں رہتی۔ہمارے ناظرین کو تعجب ہواہوگا کہ کیا اگنی سے بھی کوئی مخلوق پیداہوئی ہے۔ہم انہیں بتاتے ہیں کہ آریہ میں اگنی سے پیداہوئی ہوئی بھی ایک مخلوق ہے۔ستیارتھ پرکاش کے صفحہ ۲۷۷میں لکھا ہے کہ اے شویت تو پانی سے اس کی علت آگ کو جان۔معلوم ہواکہ آریہ کے نزدیک پانی آگ سے بنتاہے۔جنّ۔اس لفظ کے معنی لغت عرب میں دیکھو۔قاموس میں لکھا ہے جن الناس بالکسر وجنانہم بالفتح معظمھم یعنی انسانوں میں جن بڑے آدمی کو کہتے ہیں اور جن ایک مخلوق بھی ہے۔جن میں نیک و بد ہوتے ہیں۔یاد رکھو بڑے شریر تو ضرور دوزخ میںجائیں گے۔آدمی ہوں یا کوئی اور خبیث روح۔(البقرۃ :۲۵ )کے معنی یہ ہیں کہ انسانوں اور پتھروں میں جو تعلق پیداہوا ہے کہ انسانوں نے پتھروں کی پرستش شروع کردی ہے یہی تعلق دوزخ کے اشتعال کا باعث اور اس کا ہیزم ہے۔آپ کے سوال کا آخری حصہ تو بڑاسچاہے کہ خداہر ایک چیز کا سامان اس کے ساتھ ہی رکھتاہے اسی واسطے اس روشنی کے زمانہ میں چھاپہ کی کلیں نکال کرقرآن کریم کی کثرت کر دی ہے۔کیا ہی اچھا ہواکہ تمہاری بیہودہ صلاح پر وہ چلنے والا خدا نہیں۔سوال نمبر۸۹۔خدا کو خوب قرضہ دو وہ دگنا واپس کردے گا۔خداسود حرام کرے خود دگنے سود پر قرضہ لے۔دوکانداروں کو مات کیا ہے۔پھر حسب عادت بکواس کی ہے۔الجواب:۔بہکے ہوئے پال !تجھے کہیں بھی آدمیت۔شرافت، انسانیت سے کام لینے کا موقع