نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 278 of 358

نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 278

 (البقرۃ :۲۰۷ ) اور فرمایا ہے کہ جب شریر کو عذاب اور دکھ دیا گیا تو کہاجاوے گا۔(الدّخان : ۵۰) پس رب العزت کے یہ معنی بھی ہوئے متکبر، ضدی ، ہٹ والا۔(۴) جبار کے معنی مصلح کے بھی ہیں اور ظالم کے بھی۔مصلح کو تو عذاب ہونہیں سکتاہے اور ظالم کے حق میں آیا ہے خاب کل جبار عنید۔مشکوٰۃ صفحہ ۴۹۶میں ہے ہب ہب دوزخ میں ایک وادی ہے اس میں جبارلوگ داخل ہوں گے۔(۵) قدم۔جس شخص کو کہیں بھیجاجاوے اس کو قدم کہتے ہیں۔قاموس اللغۃ میں ہے۔قدمہ الذین قدمھم من الاشرار فھم قدم اللہ للنار کما ان الخیار قدم اللہ للجنۃ ووضع القدم مثل للردع والقمح۔احادیث میں ہے۔دماء الجاھلیۃ موضوعۃ تحت قدمی۔ترجمہ۔قدم اس کا وہ بد لوگ ہیں جن کو وہ حسب ان کے اعمال کے آگ میں بھیجے گا جیسے کہ برگزیدہ لوگ بہشت کے لیے قد م اللہ ہیں یعنی وہ جنہیں حسب ان کے اعمال کے اللہ تعالیٰ بہشت میں بھیجے گا اور قدم رکھنے کے اصل معنی ہیں روک دینا اور بیخ کنی کر دینا جیسے آنحضرت ﷺ نے فرمایا جاہلیت کے خون میرے قدم کے نیچے رکھے گئے ہیں یعنی میں ان کے انتقاموں سے قوم کو منع کرتاہوں اور ان کو مسلتاہوں۔(۶) رجل کے معنی قدم ،جماعت۔عربی زبان میں آتاہے رجل من جراد۔یعنی ٹڈیوں کا ٹڈی دل جماعت۔اب کس قدر صاف معنی ہیں کہ اللہ تعالیٰ جہنم کو فرمائے گا کیا تو بھر چکی وہ عرض کرے گی کیا کچھ اور بھی ہے۔تب اللہ تعالیٰ شریروں اور ظالموں اور ان کی جماعت کو جو جہنم کے لائق ہیں سب کو جہنم میں ڈال دے گا۔خلاصہ مطلب یہ ہواکہ نرکی اور جہنمی نرک اور جہنم میں داخل کئے جائیں گے اور یہی انصاف و عدل