نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 254
اور وے جانیں گے کہ میں خداوند ہوں۔‘‘اور اسی باب میں ہے توجوج کے مقابل جوماجوج کے سرزمین کا ہے اور روس مسک توبال کا سردار ہے‘‘۔تمام ہمارے جغرافیوں میں جوعربی میں ہیں اور وہ جرمن۔فرانس وغیرہ میں طبع ہوئے اور ہئیت کی کتابوں میں جیسے چغمینی اور اس کی شروح ہیں اور تمام بڑی لغت اور طب کے علمی حصہ کی کتابوں میں اس قوم کا ذکر ملتا ہے اور یہاں ہمیں کتابوں کے دکھانے کی ضرورت بھی نہیں کیونکہ یہ یاجوج ماجوج کا لفظ اج سے نکلا ہے اور اسی سے اگ پنجابی میں اور آگ اردو میں بولاجاتاہے اور یہ تمام قومیں جوشیلی آگ کی طرح اور رنگت میں آگ سے تیز ہیں۔اگنی ہوتر اور آگ میں اعلیٰ اعلیٰ چیزیں۔مشک۔دودھ۔شہد ڈالتے ہیں اور اس وقت تمام یورپ کو آگ سے خاص تعلق ہے۔آگ سے ایسے ایسے بڑے کام لے رہا ہے کہ حیرت ہوتی ہے۔سورج کو بڑا عظیم الشان مرکز آگ کا یقین کرکے اس کی پرستش ہوتی ہے بلکہ عیسائی مذہب نے تو توریت کا عظیم الشان حکم سبت کا توڑکر سن ڈے بزرگ دن مانا ہے نیز اگر دیانند نے راست بازی اور تحقیق سے کہا ہے کہ آریہ ورتی شمال سے آئے توکوئی تعجب نہیں کہ یہ لوگ بھی انہیں یاجوج ماجوج کی شاخ ہوں لاکن اگر یہ ایران سے آئے ہیں تو پھر ذوالقرنین کے ملک سے ہیں جو یاجوج ماجوج کا مخالف تھا۔پھر میں کہتا ہوں اس قوم یاجوج ماجوج کے ثابت کرنے کے لئے ہمیں کہیں دوردراز جانے کی ضرورت نہیں حقیقۃً ضرورت نہیں اس لئے کہ لنڈن میں ان دونوں قوموں کے مورثان اعظم کے اسٹیچو (بت)موجود ہیں غورکرو اور سنو! اس تحقیق میں بحمد اللہ نورالدین اول انسان ہے جس نے اردو میں اس کو شائع کیاہے افسوس ہمارے یہاں آج کل فوٹو گرافر نہیں والّا ہم ان کی تصویر بڑی خوشی سے شائع کرتے۔اصل رسالہ میں یاجوج ماجوج کی تصویر بھی دی ہے اس تصویر سے ظاہر ہے کہ دوبڑے بڑے کندہ کئے ہوئے بت گلڈہال کی دیوار کے دوزاویوں پر دھرے ہوئے ہیں یہ دنیا بھر کے مشہور ومعروف دیویاجوج ماجوج ہیں ان کا گلڈہال سے ایک ایسا خاص تعلق ہے کہ اس پر کچھ لکھنا ضروری معلوم ہوتاہے۔