نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 244 of 358

نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 244

کیسا سیدھا و صاف مطلب آیت شریفہ کا ہے(الانفال :۱۸) یعنی تو نے دشمنوں پر نہیں پھینکا جو کچھ پھینکا بلکہ خدا نے پھینکا یعنی اللہ نے تجھے مظفر ومنصور کیا اور درحقیقت اللہ تعالیٰ کی تائید اور نصرت کے سوا کون اپنی طاقت اور تدبیر سے فتح مند ہو سکتاہے۔غور سے سنو!جوکچھ حال میں ہو رہا ہے وہ ماضی کا نتیجہ ہے اور جو کچھ مستقبل میں ہو گا وہ حاضر کا ثمرہ ہو گا۔پرتکیش پرمان ظاہری مثال اس پر یہ ہے کہ آج رمضان کی ۲۲، سن ۱۳۲۱ھ ہے اور دسمبر ۱۹۰۳ء کی ۱۱تاریخ۔کیا اس میں شک ہوسکتا ہے کہ ۲۱۔۲۲کے بعد ہوئی اور ۲۳ہجری ۲۲ہجری کے بعد آئے گا۔۱۱۔۱۰کے بعد ہی آسکتی تھی اور سن ۳سن ۲کے بعد ہی ہوسکتا تھا۔پھر ۲۴۔۲۲اور۲۳کے گزرنے پرہی ا ٓئے گا۔اب جن بلاد میں گیہوں بویا گیا ہے ان میں ربیع کا کاٹنا اس کے پک جانے کے بعد ہی ہو گا۔ہزاروں لاکھوں امور کو اسی پر قیاس کرلو۔اب تم کو آیات کے متعلق جن کو دوسرے لفظوں میں لوگ معجزات کہتے ہیں ایک لطیف نکتہ سناتے ہیں تم فائدہ اٹھا ؤ گے تو تمہارا بھلا ہوگا والّا کوئی سخن شناس اس سے حظ اٹھائے گا۔بہرحال موجودہ امور گزشتہ امور کے نتائج ہوتے ہیں اور مستقبل حال کا ثمرہ یہ سلسلہ ماضی کی طرف اگرچہ ان لوگوں کے نزدیک جو الٰہی ہستی سے بے خبر ہیں لامنتہیٰ ہے مگر خدا کے ماننے والے جانتے ہیں کہ بات یہی سچ ہے۔(النجم :۴۳) یعنی سب چیزوں کا منتہے اور انجام تیرے رب کی طرف ہے۔زمانہ بھی ا ٓخر مخلوق ہے کیونکہ زمانہ مقدار فعل کانام ہے مقدار فعل فعل سے پیدا ہوسکتا ہے اور فعل فاعل سے۔جناب الٰہی کی ذات پاک چونکہ ازلی ہمہ دان۔ست اور چت (عالم)ہمہ قدرت اور سامرتھ ہے وہ اپنے ازلی علم سے جانتا تھا کہ فلاں اپنے پیارے بندے کو مجھے فلاں وقت مؤید ومظفر اور منصورکرنا ہے اور فلاں وقت فلاںشریر کو جو اس کے مقابل ہو گا ذ لیل اور خوار اور خائب وخاسر کردیناہے اس لئے اس نے ابتدا ہی سے ایسے اسباب اور مواد مہیا کر دئیے کہ اس وقت