نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 243
لوط کی قوم شریر۔حق کی دشمن۔حقیقت کی عدو تھی۔گندے اعمال اور خلاف فطرت کاموں میں منہمک تھی اللہ تعالیٰ نے ان کو تباہ کر دیا۔ڈیڈ سی (بحر مردار)کی جھیل ان کی تباہی کی زندہ نشانی ہے اور ان کی بدعملی کا نمونہ بتانے کو انگریزی زبان میں سا ڈومی کا لفظ موجود ہے۔اس جہاں میں ہمیشہ نظارہ ہائے قدرت خدا تعالیٰ کے نبیوں کی تعلیم کی تصدیق کے لئے واقع ہوتے رہتے ہیں۔شریر ان کی خلاف ورزی میں تباہ ہوتے ہیں۔اور راست بازوں کی صداقت پر اپنی بربادی سے مہر کر جاتے ہیں۔پتھروں کا مینہ ہی تھا جس نے حال میں سینٹ پیری برباد کیا اور وہ بھی پتھروں کا ہی مینہ ہوتا ہے جس کا ذکر سوال نمبر ۸۱ صفحہ۲۸۵ کے جواب میں می ٹی ی ارز کے بیان میں لکھا ہے۔سوال نمبر۷۶۔شعیب پیغمبر کی قوم کو چیخ مار کر تباہ کیا۔الجواب۔وہ لفظ جس کاترجمہ تم نے چیخ کیا ہے وہ صیحۃ کا لفظ ہے لغات القرآن میں لکھا ہے۔اَلصَّیْحَۃ قد تفزفعبر بھا عن الفزع صاح الزمان لال برمک صیحۃ خروا الصیحتہ علی الاذقان۔یعنی صیحہ سے مراد آفت اور مصیبت ہوتی ہے چنانچہ لکھاہے۔کیا معنے ؟زمانہ نے برمکیوں پر ایک بلا ڈالی اس بلا کے سبب سے ٹھوڑیوں کے بل گر پڑے۔اور یہ بھی ظاہر بات ہے کہ جس شخص پر مصائب پڑتے ہیں وہ روتا چیختا چلاتا بھی ہے۔اب بتاؤ کہ اس واقعہ میں کون سی ناممکن بات ہے کہ شعیب کی قوم عذاب الٰہی سے چیختی چلاتی ہلاک ہو گئی۔سوال نمبر۷۷۔مٹھی بھر کنکریاں مار کو فوج مخالف اسلام کو بھگا دیا۔اللہ تعالیٰ کے قول (الانفال :۱۸) پر اعتراض کیا ہے۔الجواب۔کیسا سچا کلمہ توحید اور راست بازی کا بھرا ہواہے۔نبی کریم ﷺ کو ارشادہوتاہے کہ تیری رمی اللہ تعالیٰ کی رمی ہے۔کیا ہی سچ ہے کہ دشمن کو تیر مارنا یا اپنی مار کا دشمن کو نشانہ بنانا اللہ تعالیٰ کے فضل سے اور اس کے ارادہ سے وابستہ ہے والّا ہاتھ خطا بھی جاتا ہے۔اب