نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 218
دنوں ضروری وقتوں پر مینہ برسائے یہ ان پر خاص فضل تھااور کرم کی نگاہ تھی والّا خشک سالیوں میںہلاک ہوجاتے۔جب موسٰی ؑ کے قصہ میں مشکلات پیش آویں تو ہماری نبی کریم ﷺ کے معاملات سے وہ مشکل بخوبی حل ہوسکتی ہے۔موسٰی ؑ کا قصہ بسط کے ساتھ قرآن کریم میں صرف اسی واسطے ہے کہ ہمارے نبی کریم ﷺ کو موسیٰ علیہ السلام کا مثیل قرار دیاگیاہے چنانچہ آپ کے لئے ضرورت کے موقع پر اللہ تعالیٰ نے بادل کا سایہ کردیا جیسے کہ غزوہ بدر اور احزاب میں اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرح بارش کی سخت ضرورت پیش آئی تواس وقت خدا تعالیٰ نے بارش کے ذریعہ مومنوں کو ہلاکت سے محفوظ رکھا۔استسقاء کی نماز ایسے ہی وقتوں کے لیے مسنون ہوئی۔تعجب اور پھر تعجب ہے کہ ایسے واقعات پر انسانی زندگیوں میں قانون قدرت کے موافق ہمیشہ واقع ہوتے رہے ہیں۔اعتراض کرنا اورپھر یہ دعویٰ کرنا کہ ہم لوگ سچ کو لینے والے ہیں۔اے عقل مندو!غور کرو اور ان تیز ذہن نکتہ چینیوں کی خردہ گیری کی داد دو۔سوال نمبر۶۱:۔گاؤ کا ذبح کرنا بنی اسرائیل میں۔الجواب:۔گائے اور پھر وہ ذبح ہو تمہارادل تو بہت دکھا ہوگا۔مگر جس طرح نند جو اورآریہ مسافر نے اور پھر تم نے راستبازوں کو گالیاں دے کر مومنوں کا دل دکھایا اتنا تو نہیں دکھا ہوگا سنو!انبیاء بنی اسرائیل شرک اور بت پرستی کے دشمن تھے بعض نادان فرقوں میں ایک گائے کی پرستش ہوتی تھی اور وہ ان میں درشنی گائے تھی چنانچہ اور(البقرۃ :۷۲) اس کا صاف پتہ لگتا ہے اسکا ذبح کرنا بت پرستی کی جڑ کاٹنی تھی تم لوگوں نے بھی اپنے زعم میں بت پرستی کی بیخ کنی میں بڑی کوشش کی ہے مگر اس جانور کی عظمت کچھ ایسی دل میں جاگزیں ہے کہ باوجود اس قدر دعوے کے جو تم توحید کی نسبت کرتے ہو اس جانور کی تعظیم تمہارے نزدیک بت پرستی اور دیوتاپرستی سے کم نہیں۔زبانوں سے کچھ