نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 211
جب عبدالمطلب اس ابرہ نام بادشاہ کے پاس پہنچے وہ مدارات سے پیش آیا۔جب عبد المطلب چلنے لگے اس نے کہا کہ آپ کچھ مانگ لیں۔انہوںنے کہا کہ میری سو اونٹنیاں تمہارے آدمیوں نے پکڑی ہیں وہ واپس بھیج دو۔تب اس بادشاہ نے حقارت کی نظر سے عبدالمطلب کو کہا۔کہ مجھے بڑا تعجب ہے کہ تمہیں ا پنی اونٹنیوں کی فکر لگ رہی ہے اور ہم تمہارے اس معبد کو تباہ کرنے کے لئے آئے ہیں۔عبد المطلب نے کہا۔کیا ہمارا مولیٰ جو ذرہ ذرہ کا مالک ہے جب یہ معبد اسی کے نام کا ہے اور اسی کی طرف منسوب ہے وہ اس کی حفاظت نہیں کرے گا؟اگر وہ اپنے معبد کی خود حفاظت نہیں کرنا چاہتا تو ہم کیا کر سکتے ہیں۔آخر اس بادشاہ کے لشکر میں خطرناک وبا پڑی اور چیچک کا مرض جو حبشیوں میں عام طور پر پھیل جاتاہے ان پر حملہ آور ہوا اور اوپر سے بارش ہوئی اور اس وادی میں سیلاب آیا۔بہت سارے لشکری ہلاک ہوگئے اور جیسے عام قاعدہ ہے کہ جب کثرت سے مردے ہوجاتے ہیں اور ان کو کوئی جلانے والا اور گاڑنے والا نہیں رہتا تو ان کو پرندے کھاتے ہیں۔ان موذیوں کوبھی اسی طرح جانوروں نے کھایا۔یہ کوئی پہیلی اور معما نہیں۔تاریخی واقعہ ہے۔پر افسوس تمہاری عقلوں پر!!! مکہ معظمہ کی حفاظت ہمیشہ ہوتی رہی اور ہوتی رہے گی۔کوئی تاریخ دنیا میں ایسی نہیں جو یہ بتا سکے کہ اسلام کے مدعیوں یا ابراہیم ؑ کے تعظیم کرنے والوں کے سوا کوئی اور بھی اس کامالک ہواہو۔یونانی سکندر بگولے کی طرح یونان سے اٹھ کر تمہارے ملک میں پہنچا اور اسے پامال کیا۔اور رچرڈ سارے یورپ کے ساتھ اسلام کی بربادی کو اٹھا اور نیپولین مصرتک پہنچ گیامگر عرب کی فتح سے یہ سب ناکام اور نامراد رہے۔اس میں خداترسوں کے لئے بڑے نشان ہیں۔پہلا بابل میں ہلاک ہوا اور دوسرا ملک شام سے نامراد واپس ہوا اور تیسرا سینٹ ہلینا کے قلعہ میں بے انتہا حسرتوں کو دل میں لے کر مرا۔تمہارے آریہ ورت کو ہم دیکھتے ہیں اہل اسلام اس کے مالک ہوئے یا ان کے ساتھی اب اہل کتاب ہیں۔تمہارے ہری دواراور کاشی وغیرہ کی حکومت دوسروں کے قبضہ میں ہے۔تمہارا کوئی معبد غیرمفتوح نہیں رہا۔غیر قوموں کے گھوڑوں کے سموں نے سدا ا نہیں پامال کیا یہ عجائبات اور معجزات ہیں !!