نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 207
قرب سے مقرب کو ان طاقتوں سے ذرا اثر نہ ہو یہ کیونکر خیال میں آسکتا ہے؟ ہم نے توجانوروں سے بدتر کلام کرنے والے پال کی بات کو سمجھ لیا۔سلیمان جانوروں کی باتیں کیوں نہ سمجھے ہوں اور سنو! اگر ہدہد سے بات نہیں ہوسکتی تو اگنی سے رگوید کو تمہارے بڑوں نے کس طرح اور کیونکر سنا؟ کیا آگ بات کر سکتی ہے کہ وید جیسی بانی تم کو سنا گئی اور آئندہ بھی سنائے گی؟ سنو اور غورکرو! تمہیں کچھ معلوم ہے کہ انڈیا میں مشہور نیک بخت والدین کے فرمانبردار فرزند را جہ رامچندر جی گزرے ہیں جب ان کو بن باس کے وقت لنکا کے شریر را جہ نے دکھ دیا تو ہنومان جی ان کے بیر اور داس نے ان کی کیسی خدمت کی۔ہنومان کو تم خوب جانتے ہو کہ وہ بانر (بندر) تھے اور رات دن رامچندر جی سے باتیں کرتے اور رام جی اس بندر سے باتیں کرتے۔اسی بندر کی وجہ سے آریہ ورت کے بندر آج تک مکرم ومعظم ہیں۔اگر یہ سچ ہے کہ ہنومان جی بندر تھے اور رامچندر سے ان کا مکالمہ ہوتا تھا تو ہدہد اور سلیمان کے مکالمہ پر تمہیں تعجب کیوں ہے ؟سنو ! جو حقیقت ہنومان کے لفظ کے نیچے ہے وہی ہدہد کے نیچے ہے کاش تم سمجھو۔سوال نمبر ۵۴۔ہوا سلیمان کے حکم سے چلتی تھی۔کوئی بیلون اور ریل پیش نہ کری۔الجواب۔کیوں پیش نہ کری۔تمہیں شرم نہیں آتی۔تمہارے دیانند نے لکھا ہے دیکھو ستیارتھ ۴۲۷۔جب رامچندر جی سیتاجی کو لے کر ہنومان وغیرہ کے ساتھ لنکا سے چلے۔اکاش کے راستہ غبارہ پر بیٹھ ایودھیا کو آرہے تھے تب سیتا جی کو کہا تھا کہ یہاں آہ۔او ظالم !رام چندرلنکا سے ایودھیا کو بیلون میں آسکیں اور سلیمان علیہ السلام کے قصہ میں کوئی بیلون کو پیش نہ کر سکے۔کیا یہ عقل وانصاف ہے۔او ظالم !انصاف بابرکت چیز ہے۔اور یہاں قرآن کریم میں توصاف صاف بتایا گیا ہے کہ بادی جہازوں کے ذریعہ حضرت سلیمان سفر کیا کرتے تھے اور پھر وہاں تو بحر قلزم بحیرہ روم اور خلیج فارس تھے۔یہاں سیلون۔لنکا۔ایودھیا کے درمیان خشکی ہی خشکی ہے۔تم کیا عذر تراش سکتے ہو؟