نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 185 of 358

نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 185

بغاوت سے روک دیا کہ غدر نہ کرنا۔اس ملک سے نکل جاؤجہاں تکلیف ہے اس لئے مکہ معظمہ کا ملک چھوڑ دیا گیا۔جب دشمن کو اس پر صبر نہ آیا اور اس نے تعاقب کیا تو آخر اسلام نے تلوار اٹھائی اور کامیاب ہوگیا۔پھر اس وقت چودہویں صدی میں صرف حجج کے اسلحہ سے اسلام سے جنگ شروع ہو گئی۔اسلام کے باعث کوئی قوم کسی مسلمان پر ہتھیاروں سے اب کام نہیں لیتی تو اسلام نے بھی براہین نیرّہ اور حجج ساطعہ اور دلائل واضحہ (ترک رشی)سے مقابلہ شروع کیا۔بت پرست قومیں اسلام کے مقابلہ سے ہار کر بت پرستی کے دعویٰ سے باز آرہی ہیں اور بالکل اس مسالہ میں صلح جو ہورہی ہیں کیونکہ انڈیا میں کچھ برہموں ہو گئے ہیں اور کچھ آریہ سماج۔ادھر یورپ وامریکہ میں یونی ٹیرین۔فری تھنکروں کا سمندر موج مار رہا ہے اور کیا خوب ہوا حضرت مسیح کی خدائی نیست ونابود ہورہی ہے۔(الحشر :۳) مخلوق اسلام کے مقدس مذہب میں آرہی ہے۔دھرم پال یا اور اس کے چند بھائی اس طرح اسلام سے نکل گئے جس طرح بال مکھن سے الگ ہوجاتا ہے توکہ مقدس مذہب اس وقت خس وخاشاک سے پاک ہو جاوے۔ہمارے مولوی علی العموم سمجھیں یا نہ سمجھیں اگر اس وقت وہ مہدی آنے والا ہوتا جس کو خونی جنگ کرنی ہے تو ایجاد اسلحہ اور اتحاد قومی وملکی اور عصبیت کا جلوہ مسلمانوں میں روز افزوں ہوتا نہ یورپ میں۔عصبیت کے سوائے جنگ کی وساطت سے دنیوی سلطنت کا ملنا خیالست ومحال ست و جنون۔میرے دیکھتے ایک طرف سلطنت اودہ۔دہلی۔زنجبار۔مراکش۔مسقط۔مصر اور دوسری طرف یارقند۔سمرقند۔خیوا۔بخارا۔سرویہ۔مانٹی نیگرو۔ہرز یگونیا وجزائر سائپرس۔کریٹ بلکہ اور حصص مملکت ترک بھی اور عرب کے حصہ ہائے کویت اور عدن ویمن بتدریج کچھ نکل گئے اور باقی نکل رہے ہیں اسی واسطے تو مہدی صادق علیہ السلام نے یہ نظم لکھی ہے۔