نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 184 of 358

نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 184

نمبر۶۶۱اور نمبر ۷۰۷ونمبر۶۱۶اور ا س کے علاوہ دیکھو یجروید ادہیائے نمبر۱ منتر ۵ حصول راج اور لکشمی کے لئے کیا شغل تجویز کیا ہے۔اور اسی ادھیاکے منتر نمبر ۶ومنتر۲۶میں جہاں دشمن کے باندھنے اور نہ چھوڑنے کا حکم ہے قابل غور ہے اور منتر ۲۸میں ہے بغیر لڑائی اور طاقت کے دشمن کبھی نہیں ڈرتے۔یجروید ادہیا پانچ منتر ۲۲میںہے جیسے میں ڈشٹ سبھاؤ شتروںکے شر کاٹتا ہوں توبھی کاٹ۔یجروید ادہیا نمبر ۶منتر۱ جیسے میں بداطوار وں کی گلوتراشی کرتا ہوں ویسی ہی آپ بھی کیجئے۔اسلام نے اس قربانی کو صرف دفاعی جنگوں میں منحصر اور محدود کر دیا ہے۔جب مخالف دشمن مسلمانوں کو قتل کریں اور اسلام کا استیصال کرنے لگیں تو اس وقت کے لئے فرمایا۔(الحج :۴۰)اجازت دی گئی ان لوگوں کو جن سے لڑائی کی گئی اس لئے کہ وہ مظلوم ہیں اور اللہ انہیں دشمن پر غالب کردینے پر قادر ہے۔اور فرمایا ہے۔(البقرۃ :۱۹۱) مقابلہ کرو اعلاء کلمۃ اللہ میں ان سے جو تم سے مقابلہ کرتے ہیں اور حد سے نہ بڑھنا۔اس کے معنی نبی کریم ﷺ اور آ پ کے جانشین نے یہ کئے ہیں کہ لڑکے ،عورتیں۔بڈھے۔فقیر اور تمام صلح جو نہ مارے جائیں۔اور فرمایا (البقرۃ:۱۹۴)مقابلہ کرو یہاں تک کہ فتنہ اور شرارت نہ رہے۔اسلام کا خدا تعالیٰ نے دونوں طرح کا غلبہ دکھانا چاہا ہے۔ایک وقت تھا جب دشمن نے اسلام کے استیصال کے لئے تلوار اٹھائی مسلمانوں کو قتل کرنا شروع کر دیا تو اسلام نے مسلمانوں کو