نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 179 of 358

نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 179

خوشبودار کیسرکستوری وغیرہ۔میٹھا گوڑ۔شکر وغیرہ پشت گھی دودھ وغیرہ روگ ناشک گورچ وغیرہ چار قسم کا ساکل۔اس پر غور کرو۔جب گھر گھر تمام دنیا میں ہر روز کستوری جلائی گئی تو اس قیمتی چیز کے طمع پر کس قدر کستوری کے ہرن مارے جائیں گے اور شکاری ان کے تباہ کرنے میں کس قدر کوشش کریں گے شہد کے لئے کس قدر مکھیوں کی خانہ ویرانی کرنی پڑے گی۔اب ہم اسلامی قربانی اور اس کے مقابل آریہ ورتی قربانیوں کا بھی ذکر کرتے ہیں۔انبیاء علیھم الصلوٰۃ والسلام قوموں کے مصلح ہو کر آتے ہیں وہ کل رسومات سابقہ کا استیصال کرنا نہیں چاہتے بلکہ ان میں جو رسم محض غلط اور توہم پرمبنی ہو اس کو تو باطل کردیتے ہیں اور جس رسم کی اصل صحیح ہو مگر اس کے ساتھ کچھ غلطی مل گئی ہو اس میں صرف غلطی کی اصلاح فرما دیتے ہیں۔اس نکتہ کو یاد رکھ کہ مضمون آئندہ پر نظر کرو۔دوسرا مضمون قربانی پر اسلام نے بعض قربانیوں کو قطعاً حرام اورنیست ونابود کر دیا ہے۔اول وہ قربانیاں جن میں بت پرستی اور شرک ہو کیونکہ شرک میں مبتلا انسان بحیثیت مشرک ہونے کے حقیقی اسباب کو ترک کرکے اپنی دیوی دیوتا سے امیدوار کامیابی کا ہوتا ہے اس لئے حقیقی کامیابی سے محروم رہتا ہے اور دوسرے ان مشرکوں اورپجاریوں کو اپنی اپنی دکان گرم کرنے کے لئے صدہا جھوٹے قصے بنانے پڑتے ہیں اس لئے توحید کی حامی شریعت نے ایسی تمام قربانیوں کو باطل کر دیا اور محرمات میں اس کو رکھ دیا اور فرمایا :  (المائدۃ :۴) حرام کیا گیا تم پر مردار اورخون اور سور کا گوشت اور وہ چیز یں جن پر اللہ کے سوا کانام پکارا جاوے۔