نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 171 of 358

نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 171

ملہمان وید کے بعد پھر کسی کو بھی نصیب نہیں۔وہ انبیاء کی وحی ومکالمہ کو ڈھکونسلہ نہ سمجھے تو کیا کرے؟ یا جس قوم کو باہر نکلنے کا اتفاق نہیں ہوا اور نہ ا ن کو ضرورتیں پیش آئیں اور وہ نہیں جانتے تھے کہ بعض جگہ گائے کا دودھ اور جَو کے ستّو اور ساگ نہیں مل سکتا۔گو بے ہودہ لاف زنی سے کہتے ہوں کہ ہمارے بزرگ چکر ورتی راجہ تھے۔وہ (المائدۃ :۶)کا سرکس طرح سمجھے؟ تجربہ کے سوا کچھ بھی سمجھ میں نہیں آسکتا۔غرض جامع کتاب کو سب کچھ جو انسان کے لئے ضروری البیان ہے بیان کرنا پڑتا ہے اگر وہ کتاب بیان نہ کرے جو اپنے آپ کو کامل وجامع کہتی ہے تو کون بیان کرے۔اگر آپ نہ سمجھیں یا نہ چاہیں تو آپ کی خاطر کیوں ضرورتوں کے بیان کو ترک کیا جاوے۔کیا ساری دنیا برہمچریہ مذہب رکھتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے دماغ، برین اور اعصاب میں مختلف خواص رکھے ہیں ان خواص کو مدنظر رکھنا کامل کتاب کاکام ہے۔شلیل کہنا تمہاری شریں کلامی کا ثبوت ہے اَبْکَاراً، عُرباً۔اَتْرَاباً کے معنی کنواریاں اپنے خاوندوں سے محبت کرنے والیاں،قریب العمر۔کیا نیکوں کو ایسی نہ ملیں تو چڑیلیں ملیں؟ سوال نمبر ۴۲۔(الدھر :۲۰)پر اعتراض۔کیا یہ لڑکے آدمیوں کو ملیںگے یا عورتوں کو۔پھر آپ ہی جواب دیا ہے کہ تارک اسلام کے نزدیک انصاف ہے کہ عورتوں کو بہت نوجوان یکدم بطور خاوند وپتی کے ملیں کیونکہ جب ایک ایک آدمی کو بہت سی حوریں ملیں گی تو ایک ایک عورت کو بہت نوجوان لڑکے ملنے چاہئیں۔الجواب۔آپ کا انصاف ایک شریف الطبع انسان پسند نہیں کر سکتا۔نادان غور کر!ایک عورت ایک خاوند کے ایک بچہ کو یا اس کے دو تین بچوں کو ایک وقت میں بمشکل پیٹ میں رکھ سکتی ہے۔ایک مرد آج کسی عورت کے بچہ دان کو اپنے نطفے سے مشغول کردے اور دوسرے دن دوسرے