نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 108 of 358

نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 108

اپنے نوشتوں اور ہادیوں کی اتنی لمبی مدت بیان کرتے ہیں کہ اس کے مقابل ریاضی دان بھی حیران ہو جاتے ہیں اور مجوس اپنی کتابوں کی مدت قدامت کے بیان کرنے میںمہاں سنگھ کے آگے اور سترہ صفر بڑھاتے ہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ جنگ اور مقابلہ اس عالم میں طبعی امر کی طرح ہمیشہ سے قائم چلا آتاہے اور یہ بھی ثابت ہو گیا کہ آپس میں جنگ تو ایک طرف رہی اشرار ہمیشہ خدا سے مقابلہ کرتے چلے آئے ہیں۔ایک عظیم الشان ناصح خود انسان کے اندر موجود ہے مگر اس کے ساتھ بھی وہ مقابلہ ہے کہ الامان ! الامان !تھوڑی دیر کیلئے کچہریوں میں عبرتاًدیکھیں۔بازار کے لین دین کو دیدہ بصیرت سے مطالعہ کریں۔لیکچراروں کی لفاظیاں اور اس کے ساتھ ان کا عمل درآمد غور سے ملاحظہ کریں۔محکمہ جات میں کم سے کم ان لوگوں کی عملی کارروائیوں کو دیکھیں کہ جن کی تمام تعلیم اہنساپرموں دہرما(رحم ہی اعلیٰ مذہب ہے)اور باایں ہمہ ایک جانور(گائے)کی لفظی حفاظت کی ٹھیکہ داری کے بھیس میں اپنے خیال کے مخالفوں۔غریبوں۔بیکسوں کے ساتھ کیا کیا سلوک کرتے ہیں؟ میں نے ایک ہندو ریاست کے ایک بڑے بااختیارپنڈت سے سوال کیا کہ مساوی الاستعداد مگر مدت کے امیدوار فتح محمد اور نئے امیدوار فتح چند کے لئے آپ کے محکمہ میں اگر موقع پرورش ہوتو آپ کس کو مقرر کریں گے۔کہا فتح چند کو۔میں نے کہا آپ تو بدھ مذہب کے آدمی ہیں اور آپ نے ہنوز دریافت بھی نہیں کیا کہ فتح چند بدھ مذہب کا آدمی بھی ہے یا نہیں؟کہا مولوی صاحب! ہماری بچپن کی تعلیم ہمیں ایسے سبق سکھاچکی ہے کہ بہتر ہے کہ آپ اس بحث کو ختم کردیں۔اس قسم کی صدہا نظیریں اور واقعات ہیں جو دانش مند کو کافی سبق سکھاتے ہیں۔غرض یہ مسلّم امر ہے کہ الٰہی فرمان پاک لوگوں کے مفید کلمات۔نور قلب۔عقل۔نظارہ قدرت۔تجربہ صحیحہ اور بدی کی خطرناک سزائیں موجود ہیںمگر شریر کا شرارت سے باز آناکوسوںبلکہ بمراحل دور ہے۔اس جنگ کو ستیارتھ میں دیانند نے بھی ماناہے اور اس کا دیوا سُر سنگرام نام رکھا ہے یعنی (اچھوں اور بُروں کی جنگ)غرض نور وظلمت۔نورانی و ظلمانی۔صدق وکذب کا یُدھ ہے۔ابلیس وشیطان وہی ظلمت اور شرارت ہے یایوں سمجھو کہ ظالم وشریر۔کاذب وجاہل اور