نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 105
کا مطلب صاف صاف یہ ہوا کہ جس کو اللہ تعالیٰ عذاب دے اس کو کون بچاوے؟ تم ہی بتاؤ اور اپنے اصول کو مدنظر رکھ کر جواب دو کہ کیا جنم کے عذابوں سے کوئی بچا سکتاہے ؟کیا سؤر اور کتے کو کوئی دہرمپال کیسے جنم میںلاسکتاہے؟علاوہ برآں ان آیات (المائدۃ :۴۲) اور (التوبۃ :۱۲۶) کا ثبوت تو آپ ہی ہیں مثلاً قرآن کریم راہ نما اور یقینا ہادی ہے مگر تمہارے لئے وہ باعث ہلاکت وضلالت ہوا اور اگر ہمارے خلاف یہ کہو کہ وید ہدایت کے لئے آئے تھے مگر دیکھ لو دام مارگیوں اور مہی دہر وغیرہ کے لئے وہ بھی دیانند کے نزدیک رجس اور مرض کا باعث ہوئے توبعینہ یہ بات تم کو اسلامیوں کی طرف سے کیوں سمجھ میں نہیں آسکتی؟ غور کرو ! تمام حکماء اور تمام طبیب اور دانا جانتے ہیں کہ بیمار کے لئے تندرستوں کا عمدہ کھانا بھی مضرہوتا ہے۔اگر تم کو اتنا علم نہیں تو کسی آیُر وید والے سے پوچھ لو۔سوال نمبر ۱۲۔’’اس کا خلاصہ یہ ہے کہ شیطان لوگوں کو بہکاتا ہے۔شیطان کا گمراہ کنندہ خدا ہے شیطان نے خدا کے منہ کہہ دیا‘‘الخ الجواب۔شیطان کی نسبت ارشاد الٰہی قرآن شریف میں یوں ہے۔۱۔ ٌ(بنی اسرائیل :۶۶) اس کے معنے یہ ہیں کہ بے ریب میرے بندوں پر تیرا کوئی تسلط نہیں۔خود بھی شیطان کا ایک قول قرآن مجید میں ہے۔۲۔(ابراہیم :۲۳) مجھے تم پر کوئی غلبہ اور قدرت نہیں تھی۔ہاں اتنی بات ہے کہ میں نے تمہیں بلایا سو تم نے میری بات مان لی۔اب مجھے ملامت نہ کرو بلکہ اپنے تئیں ملامت کرو۔ہر ایک بدکار گمراہ کنندہ جو ناپاک باتوں کی طرف لوگوں کو بلاتا اور ہلاکت پر چلاتا ہے ہر وقت اور