نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 104
فتنہ کے معنے کے لئے دیکھو مفردات راغب کو جو قرآن کریم کی معتبر لغت اور بہت پرانی کتاب ہے۔۱۔اصل الفتن ادخال الذھب النار لیظھر جودتہ من ردائتہ۔فتنہ کے اصلی معنی ہیں زر کو آگ میں ڈالنا تو کہ اس کی میل کچیل نکل جاوے۔اور قرآن کریم میں فرمایا ہے۔(الذاریات:۱۴)جب وہ آگ میں ڈالے جا کر عذاب دئیے جائیں گے۔۲۔الفتنۃ العذاب۔فتنہ کے معنے ہیں عذاب۔اس کے ثبوت میں قرآن کریم کی اس آیت کو پڑھو۔ْ(الذاریات:۱۵)اپنی سزا کا مزا لو۔۳۔اسباب عذاب کو بھی فتنہ کہتے ہیں۔قرآن کریم میں ہے۔(التوبۃ :۴۹) دیکھ۔وہ عذاب کے موجبات میں جاپڑے ہیں۔۴۔امتحان لینا۔محنت لینا بھی فتنہ کے معنے ہیں۔قرآن کریم میں ہے۔ (طٰہٰ :۴۱) اور ہم نے تیر ا خوب امتحان لیا۔ (الانبیاء :۳۶) اور ہم امتحان کے طور پر تمہیں بدی اور نیکی میں مبتلا کرتے ہیں۔۵۔فتنہ کے معنے دکھ بھی قرآن کریم میں آئے ہیں چنانچہ فرمایا ہے۔ (البقرۃ :۱۹۲)اور دکھ دینا قتل سے بھی سخت تر ہے۔ (البقرۃ :۱۹۴) اور ان لڑنے والوں سے تم بھی لڑو تا ان کی ایذا رسانی بند ہوجائے۔اب واضح ہو گیا کہ فتنہ کے معنے بلا۔مصیبت۔قتل۔عذاب کے ہیں اور معاً ان آیات نے کھول دیاہے کہ وہ کون سے اسباب ان لوگوں نے اپنے ہاتھوں سے آپ جمع کئے جن پر جناب حق تعالیٰ کا غضب بھڑکا اور ان کی سزا اورعدم تطہیر کا فتویٰ ان کے حق میں لگایا۔اب آیت