نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 961 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 961

کانوں تک نہیں پہنچ سکتی۔میری بات اسی طرح دوسرے لوگوں تک پہنچ سکتی ہے کہ جو شخص مجھ سے کوئی بات سنے وہ آگے پہنچائے۔وہ اگلا شخص پھر آگے پہنچائے۔اور اسی طرح یہ سلسلہ جاری رہے۔یہی قومی ترقی کا گر ہے اسی سے قومیں زندہ ہوتی ہیں اسی سے وہ دنیا میں فتحیاب ہوتی ہیں۔تیسرے معنے اس آیت کے یہ ہوں گے کہ قریش کے دل میں جو سردی گرمی کے سفروں کی محبت اللہ تعالیٰ نے پیدا کی ہے جس کی وجہ سے ان کو بافراغت رزق ملتا ہے اور متمدن اقوام سے ان کو تعلق پیدا کرنے کا موقع ملتا ہے اس نعمت کو یاد کر کے انہیں خدا تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہئے اور خانہ کعبہ کے رب کی عبادت کرنی چاہئے۔ان معنوں کے رُو سے اس مضمون کی طرف اشارہ سمجھا جائے گا کہ تمہارے ساتھ جو سلوک ہو رہا ہے یہ تمہاری وجہ سے نہیں ہو رہا بلکہ خانہ کعبہ کی خدمت کی وجہ سے ہو رہا ہے۔کیونکہ جب کسی کام کا ایک نتیجہ بیان کر دیا جائے تو در حقیقت وہی نتیجہ اس کام کا اصل باعث ہوتا ہے۔مثلاً ایک آقا اپنے نوکر کو تنخواہ دیتا ہے۔اگر کسی وقت وہ نوکر اس کی نافرمانی کرتا ہے تو آقا اس سے کہتا ہے ہم تمہیں تنخواہ دیتے ہیں تم کو چاہئے کہ ہماری فرمانبرداری کرو۔اس کے دوسرے لفظوں میں یہ معنے ہوتے ہیں کہ ہم تمہیں اس لئے تنخواہ دیتے ہیں کہ تم ہماری فرمانبرداری کرو۔اسی طرح لا يُلفِ قریش کا نتیجہ یہاں فَلْيَعْبُدُوا رَبَّ هَذَا الْبَيْتِ نکالا گیا ہے۔یعنی ہم نے ایلاف کیا اور اس کے اچھے سے اچھے نتائج پیدا کئے۔پس چاہئے کہ وہ رَبُّ الْبَیت کی عبادت کریں۔یہاں پس“ کا لفظ بتاتا ہے کہ پہلا انعام، پہلا اکرام اور پہلا احترام اسی غرض سے تھا کہ وہ رَبُّ الْبَيْت کے ساتھ تعلق رکھیں۔پس اگر فَلْيَعْبُدُوا رَبَّ هَذَا الْبَيْتِ کو لایلف کے ساتھ لگایا جائے جیسا کہ بہت سے نحوی یہی سمجھتے ہیں۔تو اس صورت میں اس کے معنے یہ ہوں گے کہ تمہارے ساتھ یہ سلوک اس لئے کیا جاتا ہے کہ تم خدا کے گھر کو آباد رکھو اور اس کا ذکر کیا کرو۔اس طرح ان پر واضح کیا گیا ہے کہ تم اپنے متعلق یہ خیال نہ کر لینا کہ یہ سلوک 961