نُورِ ہدایت — Page 950
آ کر بس گئے۔پس اگر وہ یہود و نصاریٰ کی باتیں سن کر آئے تب بھی اور ا گر وہ خود بخود آئے تب بھی، جو کچھ ہوا قدرت کے اشارہ کے ماتحت ہوا اور اس طرح اپنی قوم کو وہاں جمع کر کے وہ خدائی تدبیر کا آلہ کار بن گئے۔باشم کے زمانہ میں شام اور یمن کی طرف تجارتی قافلے جاری کرنے کی سکیم بھی اسی الہی تدبیر کی ایک کڑی معلوم ہوتی ہے۔یمن میں اس وقت مسیحیت پھیلنی شروع ہو گئی تھی اور شام میں تو مسیحیت غالب آچکی تھی۔شام سے بھاگ کر یہودی شمالی عرب میں آگئے تھے۔اسی طرح وہ یمن میں بھی چلے گئے تھے۔یمن کا ایک حمیری بادشاہ جس نے بیس ہزار عیسائیوں کو زندہ جلا دیا تھا اس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ یہودی ہو گیا تھایا یہودیوں کی طرف مائل تھا۔یہ اس امر کا ثبوت ہے کہ یہودی شام سے بھاگ کر یمن میں چلے گئے تھے اور یہی قومیں تھیں جنہوں نے آئندہ زمانہ میں اسلام سے نگر لینی تھی۔چنانچہ پہلے یمن کا واقعہ ہوا۔یعنی ابر ہہ وہاں سے آیا اور اس نے خانہ کعبہ پر حملہ کیا۔اس کے بعد جب اسلام پھیلا تو شام کے عیسائیوں نے اسلام سے مقابلہ شروع کر دیا۔پس اللہ تعالیٰ نے اپنی کمال حکمت کے ماتحت یہود اور نصاریٰ کے حالات سے مکہ والوں کو باخبر رکھنے کے لئے یہ شتاء وصیف کے سفر تجویز کرا دئیے۔روزی کمانا اور چیز ہے مگر اس غرض کے لئے دو خاص ملکوں کو چن لینا اور چیز ہے۔ورنہ ہاشم بن عبد مناف ان کو یہ بھی کہہ سکتے تھے کہ تجارتیں کیا کرو۔مگر ان کا ایسی سکیم بنانا جس سے مکہ والوں کا یمن اور شام سے تعلق پیدا ہو جائے اور پھر اللہ تعالیٰ کا اس سورۃ کو آلمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِأَصْبِ الْفِيْل کے بعد رکھنا صاف بتاتا ہے کہ یہ جو کچھ ہوا لہی سکیم کے ماتحت ہوا۔اللہ تعالیٰ چاہتا تھا کہ انہیں اس طریق پر کام کرنے کے نتیجہ میں روزی بھی مل جائے اور انہیں شام اور یمن کے حالات بھی معلوم ہوتے رہیں جن سے کسی زمانہ میں ان کی فکر ہوئی تھی۔چنانچہ جیسا کہ میں بتا چکا ہوں ان میں سے ایک کی فکر اسلام کی بعثت سے پہلے ہوئی اور ایک کی نگر رسول کریم علیم کی بعثت کے بعد ہوئی۔950