نُورِ ہدایت — Page 949
اس لئے نہیں کہ وہاں زراعت اچھی تھی۔بلکہ صرف اس لئے کہ ابراہیم نے انہیں ایک بات کہی تھی اور وہ اس پر عمل کرنے کے لئے وہاں اکٹھے ہو گئے۔پس یہ اتفاق نہیں بلکہ جو کچھ ہوا اللہ تعالیٰ کے منشاء اور اس کے ازلی فیصلہ کے مطابق ہوا۔پھر میرے نزدیک بالکل ممکن ہے کہ اس اجتماع میں یہودی اور نصرانی روایات کا بھی دخل ہو کیونکہ قوم کو دوبارہ سمجھانے والے قصی تھے جن کے تعلقات نصاری اور یہود سے تھے۔تعجب نہیں کہ جب یہودیوں اور عیسائیوں میں یہ چرچے شروع ہوئے ہوں کہ نبی مختون کی آمد کا وقت قریب ہے اور یہود ونصاریٰ کے علماء سے انہوں نے سنا ہو کہ موعود نبی عرب میں ظاہر ہونے والا ہے تو اپنی قومی روایات کو ملا کر انہوں نے یہ نتیجہ نکالا ہو کہ اگر موعود نبی عرب میں آیا تو پھر مکہ میں ہی آئے گا۔۔۔اور ان کے دل میں یہ خیال آیا ہو کہ خدا تو ہمارے گھر میں نبوت کا چشمہ پھوڑنے والا ہے اور ہم ادھر اُدھر بھٹکتے پھرتے ہیں اور اسی بناء پر انہوں نے اپنی قوم کو ی نصیحت کی ہو کہ آؤ اور مکہ میں اکٹھے ہو جاؤ تا کہ آنے والے ظہور سے فائدہ اٹھا سکو۔میں نے اوپر کہا تھا کہ خدا کی انگلی نے انہیں اشارہ کیا اور وہ مگہ میں جمع ہو گئے۔لیکن اب میں کہہ رہا ہوں کہ انہوں نے یہود اور نصاریٰ سے آنے والے نبی کی باتیں سنیں اور جب انہیں معلوم ہوا کہ عرب میں ایک نبی آنے والا ہے تو اپنی قومی روایات اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے وعدے ملا کر انہوں نے یہ نتیجہ نکال لیا ہو کہ وہ نبی مکہ میں پیدا ہونے والا ہے۔بظاہر ان دونوں میں اختلاف نظر آتا ہے لیکن در حقیقت کوئی اختلاف نہیں۔اس لئے کہ اگر انہوں نے یہود اور نصاری سے سن کر ایسا کیا تب بھی یہود اور نصاری نے جو کچھ بتایا وہ خدائی پیشگوئیاں تھیں اور خدائی پیشگوئیاں بھی قدرت کی انگلی ہوتی ہیں جو بنی نوع انسان کی راہنمائی کرتی ہیں۔اور اگر انہوں نے ان پیشگوئیوں کو نہیں سنا تب بھی یہ خدائی انگلی اور اس کی قدرت کا ایک زبردست ہاتھ تھا کہ جس بات کا انہیں دو ہزار سال تک خیال نہ آیا وہ نبی عرب کے ظہور سے سوا دوسو سال پہلے انہیں یاد آگئی اور ایسی یاد آئی کہ ہزاروں تکالیف کے باوجود وہ مکہ میں 949