نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 933 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 933

الَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِأَصْبِ الْفِيلِ والی سورۃ آخری زمانہ کے متعلق تھی۔اس سورۃ کا پہلی سورۃ سے تعلق ہے کہ پہلی سورۃ میں یہ بتایا گیا تھا کہ کس طرح خدا تعالیٰ نے کعبہ کی حفاظت کی اور یہ کہ آئندہ زمانہ میں بھی وہ کعبہ کی اسی طرح حفاظت فرمائے گا۔آئندہ زمانہ کی بات تو ابھی دنیا نے دیکھی نہیں جب وقت آئے گا دنیا اس نظارہ کو بھی دیکھ لے گی۔لیکن پہلا نشان مکہ والے دیکھ چکے ہیں۔اس سورۃ میں اللہ تعالیٰ اسی نشان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ اس عظیم الشان نشان کو دیکھتے ہوئے پھر بھی مکہ کے لوگ دنیا کی طرف زیادہ توجہ کرتے ہیں اور خدا تعالیٰ کی طرف کم توجہ کرتے ہیں حالانکہ اتنا بڑا نشان دیکھنے کے بعد انہیں یہ یقین ہو جانا چاہئے تھا کہ خانہ کعبہ سے تعلق رکھنے والوں اور اس کی سچی خدمت کرنے والوں کا اللہ تعالیٰ خود حافظ و ناصر ہوتا ہے اور اس وجہ سے انہیں دنیا کی طرف کم توجہ کرنی چاہئے تھی مگر افسوس ہے کہ ان کی حالت اس کے برعکس ہے۔دوسرا تعلق اس سورۃ کا پہلی سورۃ سے یہ ہے کہ پہلی سورۃ میں کعبہ کے دشمنوں کا انجام بتایا گیا تھا۔اب اس سورۃ میں اللہ تعالیٰ خانہ کعبہ سے محبت رکھنے والوں کے انجام کا ذکر کرتا ہے۔گویا ایک میں دشمنوں کا انجام بتایا اور دوسری میں دوستوں سے خواہ وہ گنہگار ہی تھے اپنے تعلق کا اظہار کیا اور ان پر اپنے احسان کا ذکر کیا۔میں اوپر بتا چکا ہوں کہ ابرہہ اور اس کے لشکر کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ کوئی اتفاقی امر نہیں تھا اس امر کا مزید ثبوت ان دونوں سورتوں کا یکے بعد دیگرے آنا ہے۔دنیا میں یہ ایک مسلمہ اصول ہے کہ جب کسی چیز کے دونوں پہلو بیان کر دئیے جائیں اور وہ دونوں پہلوؤں سے کامل نظر آتی ہو تو اس پر یہ اعتراض نہیں ہو سکتا کہ وہ اتفاقی ہے۔چونکہ اصحاب الفیل کے واقعہ پر یہ اعتراض ہو سکتا تھا کہ کیوں نہ اسے اتفاقی حادثہ قرار دے دیا جائے۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے سورۃ ایلف کے ذریعہ اس اعتراض کو دور کر دیا۔پہلی سورۃ میں یہ بتایا گیا تھا کہ جس نے خانہ کعبہ سے دشمنی کی اس سے ایسا ایسا سلوک ہوا۔اب سورۃ ایلف میں یہ بتاتا ہے کہ جس نے خانہ کعبہ سے دوستی کی اس سے اس اس 933