نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 932 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 932

حضرت خلیفہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اس سورۃ شریف میں جو یہ حکم ہوا ہے کہ اس گھر کے رب کی عبادت کرو جس نے تم کو بھوک سے غنی کرنے کے لئے کھانا کھلایا۔یہ آیت شریف حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام والبرکات کی اس دُعا کے مطابق ہے کہ میرے پروردگا اس شہر کو امن کی جگہ بنا۔اس دعائے ابراہیمی کی قبولیت کے سبب قریش بڑے عیش و آرام میں زندگی بسر کرتے تھے۔حالانکہ ان کے گرد و نواح کی مخلوق بلاکت میں پڑی ہوئی تھی۔اسی مضمون کی طرف اللہ تعالیٰ نے اپنی پاک کلام میں سورۃ نحل میں بھی اشارہ فرمایا ہے۔اللہ تعالیٰ نے ایک گاؤں کی مثال بیان فرمائی ہے جس کے باشندے اطمینان کے ساتھ زندگی گزارتے تھے۔ہر طرف سے اس کو رزق با فراغت پہنچتا تھا۔پھر ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناشکری کی جس پر خدا نے ان پر بھوک اور خوف کا عذاب وارد کیا۔جو اُن کی اپنی بدعملیوں کا نتیجہ تھا۔ماخوذ از حقائق الفرقان زیر سورۃ القریش ) حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: یہ سورۃ متگی ہے۔م اس سورۃ کے دو نام ہیں۔اسے قریش بھی کہتے ہیں اور اس کا ایک نام حدیثوں میں لایلف بھی آتا ہے۔لائلفِ قریش در حقیقت تین لفظ ہیں لیکن بعض لوگ جن کو پورے معنے نہیں آتے وہ غلطی سے لایلف کو ایک اور قریش کو دوسرا لفظ سمجھ لیتے ہیں۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے آخری پارہ کی سورتیں یکے بعد دیگرے اسلام کے ابتدائی اور آخری زمانہ سے تعلق رکھتی ہیں یعنی ایک سورۃ اگر ابتدائے زمانہ اسلام کے متعلق ہوتی ہے تو دوسری سورۃ آخری زمانہ اسلام کے متعلق ہوتی ہے۔یہ سورۃ اسلام کے ابتدائی زمانہ کے متعلق ہے جیسا کہ 932