نُورِ ہدایت — Page 924
کی بے مثال اور حیرت انگیز قربانیوں کے بعد، آپ کی خدا تعالیٰ سے بے انتہا محبت کے اظہار کے بعد، آپ کی اعلیٰ درجے کی نیک اور پاک جماعت دنیا میں قائم ہو جانے کے بعد، آپ کی کامل اور ہر قسم کے نقائص سے منزہ شریعت لوگوں کے سامنے پیش ہو جانے کے بعد، آپ کے دین اور مذہب کے تمام دنیا میں پھیل جانے کے بعد، اب اس ہتک کو برداشت کرلے گا کہ اسے تباہ ہونے دے اور دشمن کو اس کے بد ارادوں میں کامیاب کر دے۔کوئی عقلمند جو ذرا بھی ان واقعات پر نگاہ رکھنے والا ہو وہ محمد رسول اللہ عالم کی نبوت پر ایمان رکھتے ہوئے ایک لحظہ کے لئے بھی یہ بات نہیں مان سکتا کہ اس مقابلہ میں عیسائیت کو کامیابی حاصل ہو سکتی ہے۔یقیناً ایک مسلمان کے لئے اس میں شبہ کی کوئی گنجائش نہیں کہ وہ نگر جو اسلام اور عیسائیت میں ہونے والی ہے اس کا وہی کچھ نتیجہ نکلے گا جواہر ہر کے وقت میں نکلا جبکہ وہ خانہ کعبہ سے ٹکر لینے کے لئے آیا۔لیکن افسوس کہ باوجود اس کے کہ مسلمانوں کے پاس قرآن کریم موجود ہے۔اَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِأَصْحَب الْفِيلِ والی سورۃ موجود ہے اور وہ اسے ہر روز دیکھتے اور پڑھتے ہیں انہیں اس بات پر یقین نہیں کہ اس لڑائی میں آخر اسلام فتحیاب ہوگا اور عیسائیت ہارے گی۔یقین سے میری مراد صرف منہ کی لاف و گزاف نہیں بلکہ وہ معقول یقین مراد ہے جس کے ساتھ انسان کا عمل شامل ہوتا ہے۔بے شک جہاں تک زبان کے دعووں کا سوال ہے ہر مسلمان کہتا ہے کہ اسلام جیتے گا۔لیکن جہاں تک اسلام کی فتح اور کامیابی پر یقین کا سوال ہے ننانوے فیصدی مسلمان یہ یقین نہیں رکھتے کہ اس لڑائی میں اسلام جیتے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا الہام ہے کہ شخصے پائے من بوسید و من گفتم که سنگ اسود منم ( تذکرہ صفحہ 35) ایک شخص نے میرے پاؤں کو چوما اور میں نے کہا ہاں ہاں سنگ آسود میں ہی ہوں۔درحقیقت ہر زمانہ کا مامور اس کی جماعت کے لئے سنگِ آسود کا رنگ رکھتا ہے کیونکہ لوگ اسے چومنے اور اس کے اردگرد اکٹھے رہتے ہیں اور اس طرح دین کو تقویت حاصل ہوتی ہے۔پس اس زمانہ میں دین کی 924