نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 916 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 916

بندے کا بھی دخل ہوتا ہے۔اس کے بعد رحمانیت کا دائرہ ہے جو خالص خدا سے تعلق رکھتا ہے۔اور رحیمیت میں تھوڑا سا کام بندہ کرتا ہے اور غیر منتہی نتیجہ خدا پیدا کرتا ہے۔گویا تدبیر اور تقدیر دونوں سے مل کر یہ دنیا چلتی ہے۔اور بسم اللہ ہم کو بتاتی ہے کہ تقدیر اور تدبیر آپس میں اس طرح الجھی ہوئی ہیں کہ ان کو الگ الگ نہیں کیا جا سکتا۔آگے انسان کی مختلف حیثیتوں کے لحاظ سے اس کے کام بڑے اور چھوٹے ہوتے چلے جاتے ہیں۔ایمان کامل میں تقدیر کا پہلو غالب ہوتا ہے اور تدبیر کا پہلو کمزور ہوتا ہے جیسے رحمانیت خالص خدا کی تھی۔اسی طرح جو انسان خدا تعالیٰ کے قریب ہوتا چلا جاتا ہے اس کی زندگی کے کاموں میں بھی تقدیر زیادہ اور تدبیر کم نظر آتی ہے۔وہ بیشک تدبیر بھی کرتا ہے مگر اس کے نتائج اس کی تدبیر سے بہت زیادہ پیدا ہوتے ہیں۔حمد حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ ہمیشہ فرمایا کرتے تھے کہ دہریہ سے دہریہ بھی خدا تعالیٰ کی تقدیر سے باہر نہیں ہوتا۔ایک دہریہ کی زبان پر بھی میٹھارکھ دو تو باوجود اس کے کہ وہ خدا کو گالیاں دیتا ہوگا مگر خدا کو گالیاں دینے والی زبان بھی اس میٹھے کو میٹھا ہی چکھے گی۔غرض تقدیر ہر ایک شخص کے کام کے ساتھ کام کر رہی ہوتی ہے مگر تد بیر کا پہلو غالب ہوتا ہے اور تقدیر کا پہلو کمزور ہوتا ہے سوائے اہل اللہ کے کہ ان کا حساب اس کے الٹ ہوتا ہے۔ان دو کے علاوہ جو در میانی درجہ کا مومن ہوتا ہے خواہ وہ کلامِ الہی کو ماننے والا ہو یا نہ ماننے والا ہو جیسے عیسائی کہ وہ بھی اپنے آپ کو مومن کہتے ہیں کیونکہ وہ عیسائی مذہب کو تسلیم کرتے ہیں حالانکہ وہ اسلام پر ایمان نہیں لائے۔اسی طرح یہودی بھی اپنے آپ کو مومن کہتے ہیں کیونکہ وہ یہودی مذہب کو تسلیم کرتے ہیں۔ہندو بھی اپنے آپ کو مومن کہتے ہیں کیونکہ وہ ہندو مذہب کو تسلیم کرتے ہیں۔ان لوگوں کے لئے خواہ وہ کلام الہی کو ماننے والے ہوں یا نہ ہوں دونوں چیزوں کا امتزاج ہوتا ہے اور تقدیر اور تدبیر ان کے لئے ملی ہوئی ہوتی ہیں۔ایسے لوگ دعائیں بھی کرتے ہیں خواہ وہ سچے مذہب پر نہ ہوں جیسے عیسائی اور یہودی اور ہند وسب دعاؤں سے کام لیتے ہیں 916