نُورِ ہدایت — Page 915
میں یہ بھی لکھا جاتا ہے کہ آئندہ اس کام کا متواتر نتیجہ پیدا ہوگا۔چنانچہ اگر کوئی دس یا پندرہ سال ملازمت کرتا ہے تو وہ تنخواہ کے 1/10 حصہ کی پنشن کا حقدار ہو جاتا ہے۔بیس سال گزر جائیں تو 3 / 1 پنشن کا حقدار ہو جاتا ہے۔پچیس سال گزر جائیں اور وہ ڈاکٹری سارٹیفیکیٹ بھی پیش کر دے تو اسے نصف پنشن مل جاتی ہے اور اگر تیس سال گزر جائیں تو بغیر ڈاکٹر سارٹیفکیٹ کے ہی وہ پوری پنشن کا حقدار بن جاتا ہے۔یہ چیز ہے جو رحیمیت کے مشابہ ہے یعنی کام کا بدلہ نقد ہی نہیں ملا بلکہ آئندہ کے لئے اور نیک نتائج کی بنیاد بھی ساتھ ہی رکھ دی گئی۔پھر یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ انسان کی رحیمیت اور خدا تعالیٰ کی رحیمیت میں فرق کیا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ جب انسان بدلہ دیتا ہے تو یہ مجھ کردیتا ہے کہ اس شخص نے کچھ سالوں کے بعد مر جانا ہے اگر اسے پتہ لگ جائے کہ اس شخص نے کبھی نہیں مرنا تو وہ کبھی اسے پنشن نہ دے۔مگر چونکہ اسے یقین ہوتا ہے کہ اس نے ضرور چند سالوں کے اندر اندر مر جانا ہے اس لئے وہ پنشن دے دیتا ہے۔لیکن خدا کو نہ صرف یہ پتہ ہے کہ انسان نہیں مرے گا بلکہ وہ خود کہتا ہے کہ میں انسان کو ماروں گا نہیں بلکہ اسے ابدی زندگی دوں گا۔گویا یہی نہیں کہ وہ اتفاقی طور پر اس حادثہ کو برداشت کر لیتا ہے بلکہ وہ انسان کے زندہ رہنے اور اس کی دائمی حیات کے خود سامان مہیا کرتا ہے۔اس لئے خدا کی رحیمیت کی شان اور ہے اور انسان کی رحیمیت کی شان اور ہے۔بہر حال بسم اللہ حال پر رحمن ماضی پر اور رحیم کا لفظ مستقبل پر دلالت کرتا ہے اور یہ تینوں الفاظ بتاتے ہیں کہ تمام کے تمام کاموں میں تقدیر الہی انسان کے ساتھ وابستہ ہے۔بسم اللہ میں چھوٹی سی تدبیر شامل ہے۔یعنی انسان کہتا ہے میں خدائی مدد سے یہ کام شروع کرتا ہوں۔گویا ارادہ انسان کا اپنا ہوتا ہے۔اگر میرا ارادہ کسی کام کے متعلق نہ ہو تو میں یہ کس طرح کہہ سکتا ہوں کہ میں خدا کی مدد سے فلاں کام شروع کرتا ہوں۔بہر حال اس میں کچھ 915