نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 892 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 892

آپ کی ولادت با سعادت کے لئے اصحاب الفیل کا واقعہ بطور توطیہ و تمہید کے تھا۔كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ فرما کر ربوبیت کے لفظ سے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ تسلی فرمائی کہ آپ کی پیدائش سے پہلے ہی جبکہ آپ کے رب نے آپ کی خاطر اس قسم کی صیانت کی ہے کہ ایک بادشاہ کے زبر دست لشکر کو بلاک کر دیا۔تو کیا وہ ربوبیت جبکہ آپ پیدا ہو چکے ہیں تو آپ سے الگ ہوسکتی ہے۔أَلَمْ يَجْعَلُ كَيْدَهُمْ فِي تَضْلِيلٍ تضليل کے معنے تدبیر کے اکارت ہونے کے ہیں۔گما قَالَ اللهُ تعالی اضل آغمَالَهُمْ (محمد2) سورۃ محمد کی اس آیت اور آیت بالا دونوں کا ایک ہی مطلب ہے۔وَأَرْسَلَ عَلَيْهِمْ طَيْرًا أَبَابِيلَ ابابیل کے معنے مجھنڈ کے جھنڈ۔یہ لفظ جمع ہے۔واحد اس کا نہیں ہوتا۔ابابیل کے معنے پرے باندھ کر قطار در قطار آنے والے جانوروں کے ہیں۔عرب کہا کرتے ہیں جَاءَتِ الْخَيْلُ آبَابِيْلَ مِنْ هُهُنا وَ مِنْ ھھنا یعنی گھوڑوں کا لشکر قطار باندھ کر اس طرف سے اور اُس طرف سے آ پہنچا۔تَرْمِهِمْ بِحِجَارَةٍ مِّن سِجِيلٍ سیٹیل کے معنے سخت کنکری کے ہیں۔جس مقام پر یہ لشکر ہلاک ہوا۔وہ مزدلفہ اور مٹی کے درمیان کی جگہ ہے۔اب بھی حاجی لوگ رمی جمار کے لئے اسی میدان سے کنکریاں چن کر ساتھ لے آتے ہیں اور ان سے رمی جمار کرتے ہیں۔ترمِهِمْ بِحِجَارَة : شکاری جانوروں کی عادت ہے کہ وہ گوشت کو پتھر پر مار کر کھاتے ہیں۔892