نُورِ ہدایت — Page 872
محروم ہو گئے ہو۔پس عج کے چھوڑ دینے کی وجہ سے اس مضمون کو نہایت وسیع اور شاندار بنا دیا گیا ہے۔(2) دوسرا صلہ فی کا چھوڑا گیا ہے یعنی یہ نہیں فرمایا کہ تم کس چیز میں اپنی بڑائی بیان کرتے ہو اور بڑائی حاصل کرنا چاہتے ہو۔اس ابہام میں بھی یہ فائدہ مدنظر رکھا گیا ہے کہ کفار جہاں تک دنیوی طاقت کا سوال ہے ہر بات میں مسلمانوں سے زیادہ تھے۔وہ اپنی تعداد پر بھی فخر کرتے تھے۔اپنی تجارت پر بھی فخر کرتے تھے۔اپنے وسیع تعلقات پر بھی فخر کرتے تھے۔اپنے جمع کردہ اموال کی کثرت پر بھی فخر کرتے تھے۔اپنے نو جوانوں کی جنگی مہارت پر بھی فخر کرتے تھے۔اپنی اعلیٰ سواریوں پر بھی فخر کرتے تھے۔اپنے مسحور کر دینے والے شعراء پر بھی فخر کرتے تھے۔اپنے گرمادینے والے خطیبوں پر بھی فخر کرتے تھے۔اپنے عقل و دانش میں مشہور بوڑھوں پر بھی فخر کرتے تھے۔قومی جذبات سے معمور سینوں والی ماؤں پر بھی فخر کرتے تھے۔قوم کی عزت پر مر مٹنے والے سپاہیوں پر بھی فخر کرتے تھے اور اسی طرح اور بہت سے امور میں مسلمانوں کو اپنے سے ادنی اور کمزور قرار دے کر ان کی تحقیر کرتے تھے اور ان کے دعاوی کو غیر معقول اور بے ثبوت و دلیل دعاوی قرار دیتے تھے۔قرآن کریم جہاں تک ان کے ہرامر میں زیادہ ہونے کا سوال ہے ان کے دعویٰ کو ر ڈ نہیں کرتا۔وہ مانتا ہے کہ عدد میں، مال میں، سامانوں میں، جتھا بندی میں تم زیادہ ہو لیکن صرف اتنا کہتا ہے کہ ان چیزوں کی زیادتی نے تم کو اخلاق فاضلہ اور دین سے محروم کر دیا ہے اور انسان مال اور دولت سے نہیں جیتا کرتا بلکہ اخلاق و انکسار سے جیتا کرتا ہے۔پس یہ زیادتیاں اور بڑھوتیاں تمہارے لئے مفید نہیں بلکہ مضر ہیں کیونکہ سامان کم ہوتے تو تم اپنی ترقی کے لئے کوشش کرتے۔اب سامانوں کی فراوانی نے تم کو سست اور غافل بنا دیا ہے اور ان اخلاق کے کمانے سے محروم کر دیا ہے جن کو کمائے بغیر انسان کو پائدار دولت حاصل نہیں ہوا کرتی۔اس لئے یہ دولت تم کو نجات نہ دلائے گی بلکہ تمہاری تباہی کا موجب ہوگی۔گرتے ہوئے سوار ایک بچے سے بھی کمزور 872