نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 79 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 79

اللہ تعالیٰ نے ہمارے اس زمانہ کی کئی طریق سے تربیت فرمائی ہے اور رحمانیت اور رحیمیت کے بہت سے فیوض ہمیں دکھائے ہیں جیسا کہ اس نے پہلے نبیوں، رسولوں، ولیوں اور اپنے دوستوں کو دکھائے تھے۔ان صفات میں سے اب صرف چوتھی صفت باقی رہ گئی۔میری مراد اس سے خدا تعالی کی وہ بجتی ہے جس کا ظہور بادشاہ یا مالک کے لباس میں جزا سزا دینے کے لئے یوم جزا میں ہوگا۔لہذا خدا تعالیٰ نے اس ( تحتی ) کو مسیح موعود کے لئے معجزات کی طرح قرار دیا اور اُسے ( مسیح موعود کو ) غیبی تائید اور چمکتے نشانوں کے ساتھ حکم اور آسمانی حکومت کا نمائندہ بنایا۔اے مخاطب اتجھے عنقریب اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ کی تفسیر کے موقع پر اس حقیقت کا علم ہو جائے گا اور میں نے یہ باتیں اپنے پاس سے نہیں کہیں بلکہ یہ باریک نکات مجھے اپنے رب کی طرف سے عطا کئے گئے ہیں۔جو شخص ان ( نکات) میں پورا تدبیر کرے گا اور ان آیات میں غور وفکر سے کام لے گا اُسے معلوم ہو جائے گا کہ ان میں اللہ تعالیٰ نے مسیح موعود اور اس کے زمانہ کے متعلق خبر دی ہے جو بڑا بابرکت ہے۔پھر واضح رہے کہ یہ آیات گویا خدا تعالی خالق کائنات کے لئے حد معرف کی طرح ہیں۔اگر چہ خدا تعالیٰ کی ذات ( در حقیقت ) ہر قسم کی تحدید سے بالا ہے۔اس تشریح سے کلمہ شہادت کے معنے بھی واضح ہو جاتے ہیں جس پر ایمان اور سعادت کا دارومدار ہے۔اور انہی صفات کی بنا پر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی) اطاعت کا مستحق ہو گیا ہے۔اور عبادت کے لئے مخصوص ہو گیا کیونکہ وہ ان فیوض کو ارادۂ نازل فرماتا ہے۔پس جب تم لا إلهَ إِلَّا اللهُ کہتے ہو تو عقلمندوں کے نزدیک اس کے یہ معنے ہوتے ہیں کہ دیوی دیوتاؤں میں سے کسی کی بھی عبادت جائز نہیں عبادت صرف اس ذات کی ہونی چاہئے جو ادراک سے بالا اور ان صفات کی جامع ہے۔اس جگہ میری مراد رحمانیت اور رحیمیت سے ہے جو کہ عبادتوں کے مستحق وجود کی پہلی شرط ہیں۔پھر جان لو کہ اللہ اسم جامد ہے اور اس کی حقیقت کا ادراک نہیں ہوسکتا کیونکہ وہ اسم ذات 79